سانحہ نائن الیون: تین ہزار سے شروع ہوا ماتم 25 سال بعد 12,000 سے تجاوز: زخمی 150,000 جو آج بھی زیر علاج ہیں ، 58 شہیدوں کے بچے والدین کے نقشِ قدم پر چل پڑے،
نیویارک میں 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کو 25 برس گزر گئے، لیکن ان حملوں میں اپنے پیاروں کو کھونے والے خاندانوں کے لیے وقت آج بھی اس دن کے درد کو مٹا نہیں سکا،جمعہ کو گراؤنڈ زیرو پر ہونے والی 25ویں برسی کی تقریب میں ہزاروں افراد نے اپنے پیاروں کے نام سنے، مگر بہت سے خاندانوں کے لیے یہ صرف یاد کا دن نہیں بلکہ ایک ایسا غم تھا جو نسل در نسل منتقل ہو رہا ہے
ان دل چھو لینے والی کہانیوں میں نیویارک کے فائر فائٹر اسکاٹ لارسن کی داستان نمایاں ہے،وہ صرف 4 برس کے تھے جب ان کے والد، جو نیویارک فائر ڈیپارٹمنٹ کے فائر فائٹر تھے، ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ملبے تلے جان سے گئے،25 سال بعد اسکاٹ نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خود نیویارک فائر ڈیپارٹمنٹ میں شمولیت اختیار کی اور اسی فائر ہاؤس میں تعیناتی حاصل کی جہاں کبھی ان کے والد خدمات انجام دیتے تھے
آج بھی اس فائر ہاؤس میں ان کے والد کی تصاویر، یادگاری تختی اور فائر ٹرک پر ان کا نام موجود ہے،اسکاٹ کے لیے والد صرف ایک یاد نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں،وہ کہتے ہیں کہ ایسا کوئی دن نہیں گزرتا جب وہ فائر ہاؤس میں آ کر اپنے والد کو نہ دیکھتے ہوں،ان کے چھوٹے بھائی، جو 9/11 کے صرف 2 دن بعد پیدا ہوئے تھے، بھی فائر فائٹر بننے کی تیاری کر رہے ہیں
اسکاٹ اکیلے نہیں،رائٹرز کے مطابق 9/11 میں ہلاک ہونے والے نیویارک کے فائر فائٹرز کے کم از کم 58 بچوں نے اپنے والدین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فائر ڈیپارٹمنٹ میں شمولیت اختیار کی ہے،یوں ایک نسل کی قربانی دوسری نسل کی خدمت میں تبدیل ہو گئی
لیکن 9/11 کا المیہ صرف ان تقریباً 3,000 افراد کی موت تک محدود نہیں رہا،ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ملبے میں کام کرنے والے ہزاروں ریسکیو اور صفائی کارکن برسوں بعد بھی زہریلی گرد و غبار سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا سامنا کر رہے ہیں،امریکی ورلڈ ٹریڈ سینٹر ہیلتھ پروگرام میں 150,000 سے زیادہ امدادی کارکنوں اور متاثرہ افراد کی صحت کی نگرانی اور علاج کیا جا رہا ہے، جبکہ پروگرام کے ریکارڈ کے مطابق 9/11 کے بعد سے 9,000 سے زیادہ رجسٹرڈ افراد وفات پا چکے ہیں
اسی لیے 25ویں برسی کی نیویارک تقریب میں پہلی مرتبہ ایک اضافی لمحۂ خاموشی ان لوگوں کے لیے بھی رکھا گیا جو حملوں کے فوراً بعد نہیں بلکہ برسوں بعد زہریلے ملبے کے اثرات سے جان کی بازی ہار گئے
اور شاید 9/11 کی سب سے دردناک یاد ان آخری فون کالز میں محفوظ ہے جو ٹوئن ٹاورز میں پھنسے بعض افراد نے موت سے چند لمحے پہلے اپنے اہل خانہ کو کی تھیں،ایک ماں کو اپنے بیٹے کینی کالڈویل کے آخری الفاظ آج بھی یاد ہیں: ’’ماں، میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔‘‘ اس کی باقیات کبھی نہیں مل سکیں
25 سال بعد نیویارک میں ٹوئن ٹاورز نہیں ہیں، مگر ان کے نام، تصاویر، آخری پیغامات اور ان کے بچوں کی زندگیاں اس دن کی گواہی دے رہی ہیں،9/11 تاریخ کا ایک واقعہ ضرور بن چکا ہے، مگر ان خاندانوں کے لیے یہ تاریخ نہیں، زندگی بھر جاری رہنے والی ایک یاد ہے





