امریکہ میں پہلی بار غیرملکی دہشت گردوں کے لیے بنائ خصوصی عدالت کے تحت پہلی کاروائی ، افغان خاتون ڈی پورٹ
امریکی حکومت نے افغان شہری نذیرہ حاجی زادہ کو افغانستان ڈی پورٹ کر دیا ہے، جو امریکہ کی ایک انتہائی کم استعمال ہونے والی خصوصی عدالت کے ذریعے ملک سے نکالی جانے والی پہلی شخصیت بن گئی ہیں،یہ عدالت 1996 میں مبینہ ’’غیر ملکی دہشت گردوں‘‘ کی ملک بدری کے لیے بنائی گئی تھی، مگر تقریباً 30 سال تک اس میں کوئی مقدمہ پیش نہیں ہوا تھا
47 سالہ حاجی زادہ ٹیکساس کے شہر فورٹ ورتھ میں قانونی مستقل رہائشی کے طور پر مقیم تھیں،انہیں جولائی میں گرفتار کیا گیا اور محکمہ انصاف نے Alien Terrorist Removal Court میں ان کی ملک بدری کی کارروائی شروع کی،حکومت کا الزام تھا کہ وہ داعش سے متاثرہ 2024 کے امریکی انتخابات کے روز بڑے پیمانے پر فائرنگ کے ناکام منصوبے میں مدد اور اسے چھپانے میں ملوث تھیں،تاہم ان پر اس سازش کے حوالے سے کوئی فوجداری مقدمہ قائم نہیں کیا گیا تھا
حکومت کے مطابق ان کا بیٹا عبداللہ حاجی زادہ اور داماد ناصر احمد توحیدی اس سازش سے متعلق مقدمات میں مجرم قرار دیے جا چکے ہیں،توحیدی نے داعش کو مادی مدد فراہم کرنے اور حملے کی منصوبہ بندی کی سازش کا اعتراف کیا تھا
حاجی زادہ نے اگست میں اپنی ملک بدری کے خلاف قانونی جنگ جاری نہ رکھنے پر رضامندی ظاہر کی، جس کے بعد عدالت کی چیف جج جوان ایرکسن نے ملک بدری کا حکم منظور کیا،ان کے وکیل نے واضح کیا کہ ان کی جانب سے ملک بدری قبول کرنا اس خصوصی عدالت کی قانونی حیثیت کو تسلیم کرنا نہیں سمجھا جانا چاہیے،وکیل کے مطابق حکومت نے ایسے خفیہ شواہد استعمال کیے جنہیں حاجی زادہ یا ان کے وکلا کو دیکھنے کا موقع نہیں دیا گیا، جو ان کے بقول آئینی حقِ دفاع کی خلاف ورزی ہے
یہ مقدمہ اس لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ اس عدالت کو 1996 میں قائم کیے جانے کے بعد پہلی مرتبہ استعمال کیا گیا ہے،عدالت میں 5 وفاقی جج شامل ہیں اور اسے ایسے افراد کی ملک بدری کے مقدمات سننے کا مخصوص اختیار حاصل ہے جنہیں محکمہ انصاف ’’غیر ملکی دہشت گرد‘‘ قرار دے





