حسینہ واجد کی بیٹی سائمہ واجد نے عالمی ادارہ صحت کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا
بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی بیٹی سائمہ واجد نے عالمی ادارہ صحت کے جنوب مشرقی ایشیا کے لیے علاقائی ڈائریکٹر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے ان کا استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ان کے خلاف مالی بے ضابطگیوں اور دیگر الزامات کی تحقیقات جاری تھیں
سائمہ واجد نے 2024 کے آغاز میں 5 سالہ مدت کے لیے یہ عہدہ سنبھالا تھا، تاہم عالمی ادارہ صحت نے گزشتہ سال انہیں بغیر تنخواہ انتظامی رخصت پر بھیج دیا تھا بنگلہ دیش کے انسداد بدعنوانی ادارے نے بھی مارچ 2025 میں ان کے خلاف دھوکا دہی اور جعلسازی کے الزامات میں مقدمات درج کیے تھے
عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایک کمیٹی نے ان کے استعفے سے ایک روز قبل انہیں عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی تھی ادارے کی جانب سے ان پر چین کے سفر سے متعلق مالی فراڈ اور اپنی تعلیمی اسناد کے بارے میں غلط معلومات فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے سائمہ واجد نے ان الزامات کی تردید کی ہے
ان کے خلاف بنگلہ دیش میں ایک زمین حاصل کرنے سے متعلق بھی اعتراض اٹھایا گیا سائمہ واجد کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ زمین عالمی ادارہ صحت میں شامل ہونے سے پہلے حاصل کی تھی اور یہ سہولت اس قانون کے تحت حاصل ہوئی تھی جو بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمان کے خاندانوں کے لیے مخصوص تھی
استعفے کے خط میں سائمہ واجد نے کہا کہ انہیں مؤثر طور پر اپنے فرائض انجام دینے سے روکا جا رہا تھا اور عالمی ادارہ صحت کی قیادت پر ان کا اعتماد ختم ہوچکا ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ تقریباً 1 سال سے بغیر تنخواہ رہنے کے باعث ان کی مالی صورتحال ناقابل برداشت ہوگئی تھی، اس لیے انہوں نے عہدے سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا
عالمی ادارہ صحت کے علاقائی ادارے اور ایگزیکٹو بورڈ اب ان کے استعفے پر غور کریں گے نئے علاقائی سربراہ کی تقرری تک ڈاکٹر نلیش بدھا قائم مقام سربراہ کے طور پر ذمہ داریاں انجام دیتے رہیں گے نئے امیدواروں کے نام 12 اکتوبر کو طلب کیے جانے اور جنوری 2027 میں انتخاب ہونے کا امکان ہے





