Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پاکستان کے مالیاتی نظام پر بینکوں کا غلبہ، 80 فیصد سے زائد اثاثے کمرشل بینکوں کے پاس

پاکستان کے مالیاتی نظام پر بینکوں کا غلبہ، 80 فیصد سے زائد اثاثے کمرشل بینکوں کے پاس

پاکستان کا مالیاتی نظام اس وقت بڑی حد تک کمرشل بینکوں کے گرد گھوم رہا ہے مالیاتی شعبے کے مجموعی اثاثوں میں بینکوں کا حصہ 80 فیصد سے زیادہ ہے، جس کے باعث سرمایہ کاری، بچت اور قرضوں کی فراہمی کے دیگر ذرائع نسبتاً کمزور رہ گئے ہیں
مالیاتی نظام میں عام طور پر بینکوں کے ساتھ اسٹاک مارکیٹ، پنشن فنڈز، انشورنس کمپنیاں، میوچل فنڈز، اثاثہ جات کے منتظمین اور دیگر مالیاتی ادارے بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن پاکستان میں ان اداروں کی بڑی تعداد براہ راست یا بالواسطہ بینکوں سے جڑی ہوئی ہے اس صورتحال کے باعث بظاہر مالیاتی اداروں میں تنوع نظر آتا ہے، مگر عملی طور پر طاقت ایک ہی بڑے شعبے کے پاس مرکوز ہے
اس غلبے کی ایک بڑی وجہ حکومت کی مسلسل قرض لینے کی ضرورت ہے۔ بینکوں کے تقریباً 62 فیصد اثاثے حکومتی سیکیورٹیز میں لگے ہوئے ہیں جبکہ نجی شعبے کو دیے گئے قرضوں کا حصہ صرف 22 فیصد کے قریب ہے۔ اس طرح بینک نجی کاروبار اور پیداواری سرگرمیوں کو قرض دینے کے بجائے حکومت کے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے بڑے ذریعے بن گئے ہیں
حکومتی سیکیورٹیز بینکوں کے لیے نسبتاً آسان اور کم خطرے والی سرمایہ کاری ہیں، جبکہ نجی کاروبار کو قرض دینے کے لیے کریڈٹ جانچ، دستاویزات، ضمانت اور مسلسل نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے بینکوں کے لیے حکومت کو قرض دینا زیادہ آسان اور پرکشش رہتا ہے
دوسری جانب پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ میں عوام کی شرکت بھی بہت کم ہے۔ آبادی کے 0.5 فیصد سے بھی کم افراد کے پاس اسٹاک مارکیٹ کے اکاؤنٹس ہیں عام شہری زیادہ تر نقد رقم، بینک ڈپازٹس، جائیداد اور سونے کو ترجیح دیتے ہیں، جس کی ایک وجہ مالیاتی معلومات کی کمی اور مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ پر عدم اعتماد بھی ہے
کاروباری اداروں کے لیے بھی بینک سے قرض لینا اکثر مارکیٹ سے سرمایہ حاصل کرنے کے مقابلے میں آسان ہے۔ اسٹاک مارکیٹ میں لسٹنگ کے لیے اضافی انکشافات، آڈٹ، کارپوریٹ گورننس اور دیگر ضابطوں پر عمل کرنا پڑتا ہے، جبکہ خاندانی ملکیت والے بڑے کاروباری گروپس بھی اپنی ملکیت اور مالی معاملات کو زیادہ عوامی بنانے سے گریز کرتے ہیں
ماہر کے مطابق پنشن اور انشورنس کا شعبہ بھی پاکستان میں اتنا ترقی یافتہ نہیں کہ وہ طویل مدتی سرمایہ فراہم کرنے میں بینکوں کا مؤثر متبادل بن سکے مزید یہ کہ بعض اداروں کے سرمایہ کاری کے مواقع بھی حکومتی سیکیورٹیز یا بینک ڈپازٹس تک محدود رہتے ہیں
غیر بینکاری مالیاتی اداروں کے لیے بھی صورتحال آسان نہیں انہیں عام لوگوں کے ڈپازٹس لینے کی اجازت نہیں، اس لیے انہیں سرمایہ کاروں کو براہ راست سرمایہ کاری پر آمادہ کرنا پڑتا ہے یا بینکوں سے تجارتی شرح پر قرض لینا پڑتا ہے بعض مالیاتی مصنوعات کے لیے مختلف ریگولیٹری اداروں سے منظوری درکار ہوتی ہے، جس سے نئے مالیاتی اداروں اور مصنوعات کی ترقی مزید سست ہو جاتی ہے
نتیجتاً بینکوں نے خود ہی متعدد غیر بینکاری مالیاتی اداروں میں سرمایہ کاری یا ملکیت حاصل کرلی ہے یوں بظاہر الگ نظر آنے والے میوچل فنڈز اور اثاثہ جات کی انتظامی کمپنیاں بھی بڑے مالیاتی گروپس کے ساتھ منسلک ہو جاتی ہیں اور سرمایہ بالآخر دوبارہ بینکاری نظام میں پہنچ جاتا ہے
تجزیے کے مطابق پاکستان کو ایسے مالیاتی نظام کی ضرورت ہے جہاں بینکوں اور غیر بینکاری اداروں کے درمیان حقیقی مسابقت ہو اور ضابطے اداروں کے بجائے ان کے مالیاتی کام اور خطرات کی بنیاد پر طے کیے جائیں اس طرح سرمایہ کاری کے نئے ذرائع پیدا ہوسکتے ہیں اور نجی شعبے کو حکومت کے مقابلے میں زیادہ سرمایہ دستیاب ہوسکتا ہے

قومی خبریں سے مزید