بڑھتے اخراجات کا بوجھ، پی ایس ایل ٹیموں کا کھلاڑیوں کی تنخواہوں کا بجٹ کم کرنے کا مطالبہ
پاکستان سپر لیگ کی بعض فرنچائزز نے کرکٹ بورڈ سے کھلاڑیوں کے لیے مختص موجودہ تنخواہوں کے بجٹ میں کمی کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے یہ مطالبہ گزشتہ ہفتے لندن میں ہونے والے لیگ کونسل کے اجلاس میں سامنے آیا، تاہم اجلاس میں کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی کی جانب سے اس درخواست پر فوری جواب نہیں دیا گیا
پی ایس ایل کی ابتدائی 10 سالہ مدت مکمل ہونے کے بعد 2026 کے سیزن میں پہلی مرتبہ کھلاڑیوں کے انتخاب کے لیے نیلامی کا نظام متعارف کرایا گیا اس نظام کے تحت ہر فرنچائز کے لیے بنیادی کھلاڑیوں کا بجٹ 1.6 ملین ڈالر یعنی تقریباً 450 ملین پاکستانی روپے مقرر کیا گیا تھا، جبکہ ایک ایسے غیر ملکی کھلاڑی کو براہ راست شامل کرنے کی صورت میں یہ رقم 1.8 ملین ڈالر یعنی تقریباً 505 ملین روپے تک بڑھ سکتی ہے
موجودہ نظام میں اعلیٰ درجے کے کھلاڑی کو زیادہ سے زیادہ 150,000 ڈالر، دوسرے درجے کے کھلاڑی کو 80,000 ڈالر، تیسرے درجے کے کھلاڑی کو 40,000 ڈالر جبکہ چوتھے درجے کے کھلاڑی کو 21,500 ڈالر تک مل سکتے ہیں
فرنچائزز کی مالی پریشانی کی ایک بڑی وجہ اس سال ملکیت کی تبدیلیاں بھی ہیں۔ حیدرآباد کی فرنچائز 1.75 ارب روپے، راولپنڈی کی 1.85 ارب روپے اور ملتان سلطانز کی 1.08 ارب روپے میں فروخت ہوئی نئے مالکان کے لیے کھلاڑیوں کی تنخواہوں، انتظامی اخراجات اور دیگر مالی ذمہ داریاں پوری کرنا پرانی فرنچائزز کے مقابلے میں زیادہ مشکل قرار دیا جا رہا ہے
دوسری طرف لیگ کے مالی معاملات میں صرف فرنچائزز ہی دباؤ کا شکار نہیں۔ بعض متعلقہ فریق اب بھی کرکٹ بورڈ کے واجبات ادا نہیں کر سکے، جس سے پورے لیگ نظام پر مالی دباؤ بڑھنے کی اطلاعات ہیں
یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کہ ایک طرف پی ایس ایل کو پاکستان کی بڑی کھیلوں کی تجارتی لیگ بنانے اور غیر ملکی کھلاڑیوں کو راغب کرنے کے لیے زیادہ مالی گنجائش دی جا رہی ہے، جبکہ دوسری طرف فرنچائزز اب اسی کھلاڑیوں کے بجٹ کو کم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لیگ کے نئے مالی ڈھانچے میں آمدن، فرنچائز فیس، کھلاڑیوں کی قیمت اور حقیقی کاروباری اخراجات کے درمیان توازن ابھی مکمل طور پر قائم نہیں ہوا
اصل فیصلہ اب کرکٹ بورڈ کو کرنا ہے کہ وہ فرنچائزز کے بڑھتے مالی دباؤ کو دیکھتے ہوئے کھلاڑیوں کا بجٹ کم کرتا ہے یا موجودہ رقم برقرار رکھ کر لیگ کی تجارتی آمدن اور فرنچائزز کے مالی ماڈل کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے





