Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

باپ مر گیا، دادا خود بے گھر نکلا، ماں بے سہارا رہی؛ آخر دو بچیوں کو ریاست کا دروازہ کیوں کھٹکھٹانا پڑا؟

باپ مر گیا، دادا خود بے گھر نکلا، ماں بے سہارا رہی؛ آخر دو بچیوں کو ریاست کا دروازہ کیوں کھٹکھٹانا پڑا؟

سپریم کورٹ نے دو کم عمر ہندو بچیوں کے حق میں سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے پاکستان بیت المال کو دونوں بچیوں کے لیے 10،000، 10،000 روپے ماہانہ مالی معاونت جاری رکھنے کا حکم برقرار رکھا ہے، جس میں ہر سال 10 فیصد اضافہ بھی ہوگا اور یہ مدد ان کی شادی تک جاری رہے گی
یہ فیصلہ صرف دو بچیوں کو ماہانہ 20 ہزار روپے دینے کا معاملہ نہیں؛ یہ اس سوال کی تصویر ہے کہ جب ایک خاندان کا سہارا ایک ایک کرکے ختم ہوجائے تو ریاست کہاں کھڑی ہوتی ہے
ان بچیوں کے والد روی کمار نے 20 مئی 2017 کو خودکشی کرلی تھی ان کی والدہ شری متی ریتا کے پاس اپنی اور بچیوں کی کفالت کے لیے کوئی مستقل آمدنی نہیں تھی۔ دوسری طرف ان کے دادا رام راج بھی بوڑھے اور بیمار تھے، ان کے پاس نہ آمدنی تھی، نہ اپنا گھر؛ وہ ایک دھرم شالہ میں رہ رہے تھے
اس کے باوجود ابتدا میں خاندان کے بزرگ پر بچیوں کے اخراجات کی ذمہ داری ڈال دی گئی۔ فی بچی 3 ہزار روپے ماہانہ کا حکم بھی دیا گیا، جس میں سالانہ 10 فیصد اضافہ ہونا تھا۔ لیکن سوال یہ تھا کہ جو شخص خود بے گھر اور بے وسیلہ ہو، وہ دو یتیم بچیوں کا بوجھ کیسے اٹھائے؟
سپریم کورٹ نے اسی بنیادی حقیقت کو تسلیم کیا کہ بعض اوقات عدالت کے سامنے صرف قانونی سوال نہیں ہوتا بلکہ اس قانون کے پیچھے چھپی ہوئی انسانی مصیبت بھی موجود ہوتی ہے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے قرار دیا کہ عدالتیں ضرورت پڑنے پر قانونی مسئلے سے آگے بڑھ کر فریقین کی اصل مشکلات کو بھی دیکھ سکتی ہیں، خصوصاً جب ریاست میں ایسا ادارہ موجود ہو جس کا مقصد ہی ضرورت مندوں کی مدد کرنا ہے
اس کیس کا ایک اور اہم پہلو بچیوں کا اقلیتی خاندان سے تعلق ہے عدالت نے نشاندہی کی کہ غربت، خاندان کے سہارے کا ختم ہوجانا اور دوسرے معاشی مسائل پہلے ہی مشکل حالات پیدا کرتے ہیں، لیکن معاشرے کے کمزور یا اقلیتی طبقات پر ان مشکلات کا اثر مزید شدید ہوسکتا ہے
اصل سوال صرف 20 ہزار روپے کا نہیں
ریاست اگر دو بچیوں کو ماہانہ 20 ہزار روپے فراہم کرتی ہے تو بظاہر یہ ایک معمولی رقم محسوس ہوسکتی ہے لیکن ان بچیوں کے لیے یہی رقم خوراک، تعلیم، لباس اور بنیادی ضروریات کے درمیان فرق پیدا کرسکتی ہے
اور یہی اس فیصلے کا بڑا سبق ہے:
ریاست کی طاقت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ طاقتور لوگوں کو کتنی سہولت دے سکتی ہے اصل امتحان یہ ہے کہ جب ایک غریب، یتیم اور بے سہارا بچہ دروازہ کھٹکھٹائے تو ریاست اسے واپس نہ بھیجے
سپریم کورٹ نے آئندہ ایسے مقدمات کے لیے بھی ایک طریقہ کار واضح کیا ہے عدالتیں ضرورت مند خاندانوں کے معاملات پاکستان بیت المال کے سامنے رکھ سکتی ہیں، جبکہ بیت المال اپنی پالیسی اور اہلیت کے معیار کے مطابق مدد کی مقدار طے کرے گا
دو بچیوں کو 10،10 ہزار روپے ماہانہ ملنے کی خبر شاید بڑی معاشی خبر نہ ہو، لیکن ایک غریب ریاست کی اصل ترجیحات کا پیمانہ ضرور ہے جس ملک میں ایک بیوہ ماں، بے گھر دادا اور دو کمسن بچیاں بھی ریاستی مدد کے بغیر اپنے حق تک نہ پہنچ سکیں، وہاں فلاحی ریاست کا وعدہ ابھی بہت دور ہے

قومی خبریں سے مزید