Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

امریکہ میں پٹرول کی قیمت نے لیبر ڈے کا نیا ریکارڈ توڑ دیا، ایران جنگ اور آبنائے ہرمز نے امریکی صارفین کو بھی جھنجھوڑ دیا

امریکہ میں پٹرول کی قیمت نے لیبر ڈے کا نیا ریکارڈ توڑ دیا، ایران جنگ اور آبنائے ہرمز نے امریکی صارفین کو بھی جھنجھوڑ دیا

امریکہ میں لیبر ڈے کے موقع پر عام پٹرول کی قومی اوسط قیمت $4.14 فی گیلن تک پہنچ گئی ہے، جو اس تہوار کے لیے تاریخ کی بلند ترین سطح ہے،یہ گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً $1 زیادہ اور 2012 کے سابقہ ریکارڈ $3.82 سے بھی نمایاں طور پر زیادہ ہے
قیمتوں میں یہ اضافہ بنیادی طور پر ایران جنگ اور آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل میں شدید رکاوٹ سے منسلک ہے،فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد عالمی تیل کی سپلائی کا دباؤ بڑھتا گیا اور آبنائے ہرمز سے خام تیل کی آمدورفت میں نمایاں کمی آئی،آج برینٹ خام تیل بھی تقریباً $97 فی بیرل تک پہنچ چکا ہے
امریکی صارفین کے لیے صورتحال اس لیے بھی زیادہ تشویشناک ہے کہ ڈیزل کی قومی اوسط قیمت $5.85 فی گیلن کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے،ڈیزل مہنگا ہونے کا اثر صرف گاڑی چلانے والوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ ٹرکوں، مال برداری اور خوراک سمیت روزمرہ اشیا کی ترسیل کی لاگت بھی بڑھاتا ہے
اس بحران میں امریکی ریفائنریوں پر بھی دباؤ ہے۔ ٹیکساس میں شدید گرمی کے دوران ریفائنریاں تقریباً 98 فیصد صلاحیت پر کام کر رہی ہیں، جبکہ روسی ریفائنریوں پر یوکرینی ڈرون حملوں اور چین میں ریفائننگ پیداوار میں کمی نے عالمی ایندھن کی دستیابی مزید محدود کر دی ہے
توانائی کے وزیر کرس رائٹ کا کہنا ہے کہ حکومت قیمتیں کم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور مستقبل کی منڈی کے اشارے نومبر تک پٹرول کی قیمت میں تقریباً 35 سینٹ فی گیلن کمی کی توقع ظاہر کر رہے ہیں،تاہم آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث یہ پیش گوئی انتہائی غیر یقینی ہے
یوں ایران جنگ کا اثر اب صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہا بلکہ امریکی گھرانوں کے سفری اخراجات، مال برداری اور روزمرہ مہنگائی تک براہِ راست پہنچ چکا ہے

قومی خبریں سے مزید