Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

جرمنی درد ناک صورت حال سے دوچار: انتہائی دائیں بازو کی تاریخی فتح، مرس کے سامنے اب فیصلہ کن امتحان، فائر وال توڑیں یا اف ڈی کو حکومت بنانے دیں؟

جرمنی درد ناک صورت حال سے دوچار: انتہائی دائیں بازو کی تاریخی فتح، مرس کے سامنے اب فیصلہ کن امتحان، فائر وال توڑیں یا اف ڈی کو حکومت بنانے دیں؟

جرمنی کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹو فار جرمنی، یعنی اے ایف ڈی، نے مشرقی ریاست سیکسنی انہالٹ کے انتخابات میں تقریباً 44 فیصد ووٹ لے کر تاریخی کامیابی حاصل کرلی ہے، لیکن وہ پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے سے چند نشستیں پیچھے رہ گئی،اس نتیجے نے جرمنی کے سیاسی نظام کو ایک غیر معمولی بحران کے سامنے کھڑا کردیا ہے،کیا روایتی جماعتیں اپنے شدید نظریاتی اختلافات کے باوجود مل کر اے ایف ڈی کو اقتدار سے باہر رکھیں گی، یا پہلی مرتبہ اسے اقلیتی حکومت بنانے کا موقع دینا پڑے گا؟
جرمنی میں اے ایف ڈی کے خلاف کئی دہائیوں سے ایک سیاسی ’’فائر وال‘‘ قائم ہے،اس کا مطلب یہ ہے کہ مرکزی دھارے کی جماعتیں، خواہ وہ دائیں بازو کی قدامت پسند سی ڈی یو ہوں یا بائیں بازو کی جماعتیں، اے ایف ڈی کے ساتھ حکومت بنانے یا اسے اقتدار میں لانے کے لیے ووٹ دینے سے انکار کرتی رہی ہیں،جرمنی کی داخلی انٹیلی جنس سروس نے سیکسنی انہالٹ میں اے ایف ڈی کو انتہائی دائیں بازو کی شدت پسند تنظیم قرار دیا ہے، جس کے باعث دوسری جماعتوں کے لیے اس کے ساتھ تعاون سیاسی طور پر انتہائی حساس معاملہ ہے
لیکن اب مسئلہ صرف نظریاتی نہیں رہا، بلکہ پارلیمانی اعداد و شمار کا بھی ہے،اے ایف ڈی کے پاس حکومت بنانے کے لیے درکار مکمل اکثریت نہیں،دوسری جماعتیں بھی ایک دوسرے سے اتنی مختلف ہیں کہ اے ایف ڈی کو روکنے کے لیے کوئی آسان متبادل اتحاد دکھائی نہیں دیتا،نتیجتاً فریڈرک مرس اور سی ڈی یو کے سامنے وہی مشکل پیدا ہوئی ہے جس کا ذکر وال اسٹریٹ جرنل نے یوں کیا ہے،اے ایف ڈی کو روکنے کے لیے فائر وال برقرار رکھا جائے تو ایک پیچیدہ اور ممکنہ طور پر غیر مستحکم حکومت بنانا پڑے گی، جبکہ فائر وال میں دراڑ ڈالی جائے تو جنگِ عظیم دوم کے بعد پہلی مرتبہ انتہائی دائیں بازو کی جماعت جرمنی کی کسی ریاست میں حکومت کے قریب پہنچ جائے گی
اے ایف ڈی کے امیدوار اولریش زیگموند نے نتائج کو اپنی جماعت کے لیے تاریخی مینڈیٹ قرار دیا ہے،جماعت امیگریشن پر سخت پابندیوں، ملک بدری کے اقدامات، روس کے ساتھ زیادہ قریبی تعلقات اور یوکرین کے لیے جرمن حمایت ختم کرنے جیسے مؤقف رکھتی ہے،اسی لیے سیکسنی انہالٹ میں اس کی فتح کو محض علاقائی حکومت کی تبدیلی کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا بلکہ جرمنی کے قومی سیاسی رخ کے بارے میں ایک بڑے عوامی اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے
مرس کے لیے دھچکا اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ سیکسنی انہالٹ میں ان کی جماعت دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے اقتدار میں رہی ہے،اب اسی ریاست میں سی ڈی یو کا ووٹ تقریباً 37 فیصد سے گر کر 17 فیصد کے قریب رہ گیا ہے،یہ نتیجہ مرس کی وفاقی حکومت کے خلاف بڑھتی ہوئی بے چینی کو بھی ظاہر کرتا ہے، کیونکہ اے ایف ڈی نے اپنی انتخابی مہم میں مہنگائی، امیگریشن، سلامتی اور حکومت کی کارکردگی پر عوامی ناراضی کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا
یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ اے ایف ڈی نے الیکشن جیت لیا ہے،اصل سوال یہ ہے کہ جرمنی کا سیاسی نظام عوام کے اس فیصلے کے ساتھ کیا کرتا ہے،اگر باقی جماعتیں مل کر اسے اقتدار سے باہر رکھتی ہیں تو وہ اپنے طویل عرصے سے قائم فائر وال کو برقرار رکھیں گی، لیکن اس کے نتیجے میں انہیں ایسی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانا پڑ سکتی ہے جو معاشی، سماجی اور خارجہ پالیسی کے بنیادی معاملات پر ایک دوسرے سے شدید اختلاف رکھتی ہیں،دوسری طرف اگر کسی مرحلے پر اے ایف ڈی کو حکومت سازی میں راستہ دیا جاتا ہے تو یہ جرمنی کی جنگ کے بعد کی سیاست میں ایک تاریخی تبدیلی ہوگی
یہ انتخاب ایک اور حقیقت بھی سامنے لے آیا ہے،اے ایف ڈی اب احتجاجی ووٹ لینے والی نسبتاً چھوٹی جماعت نہیں رہی،تقریباً 44 فیصد ووٹ کے ساتھ وہ ایک ایسی ریاست میں واضح طور پر سب سے بڑی سیاسی قوت بن چکی ہے،جرمنی کی انتخابی تاریخ میں اس کا یہ سب سے بڑا ریاستی نتیجہ ہے
اور اب جب کے سیکسنی انہالٹ کا نتیجہ برلن کے لیے خطرے کی گھنٹی بن جاتا ہے،اگر اے ایف ڈی کو حکومت سے باہر رکھنے کے لیے روایتی جماعتوں کا اتحاد کامیاب نہیں ہوتا تو یہ سوال صرف اس ایک ریاست تک محدود نہیں رہے گا،جرمنی میں آئندہ ریاستی اور وفاقی انتخابات میں ووٹر یہ دیکھیں گے کہ تقریباً نصف ووٹ لینے والی ایک جماعت کو اقتدار سے باہر رکھنے کی حکمت عملی کب تک قابلِ عمل رہتی ہے
جنگِ عظیم دوم کے بعد جرمنی نے اپنی جمہوریت کی حفاظت کے لیے انتہائی دائیں بازو کے خلاف جو سیاسی دیوار تعمیر کی تھی، سیکسنی انہالٹ کے انتخاب نے پہلی مرتبہ اسے محض نظریاتی تصور نہیں بلکہ عملی سیاسی بحران بنا دیا ہے،اے ایف ڈی اکثریت حاصل نہیں کرسکی، لیکن اس نے اتنے ووٹ ضرور حاصل کرلیے ہیں کہ اب اسے نظرانداز کرنا جرمنی کی روایتی جماعتوں کے لیے پہلے جیسا آسان نہیں رہا

قومی خبریں سے مزید