نیپال میں تباہ کن سیلاب: واٹس ایپ گروپ میں موجود انجینئرز سرنگوں میں پھنسے افراد کو بچانے کے لیے ریسکیو ٹیموں کی رہنمائی کر رہے ہیں
نیپال میں 26 اگست کو آنے والے تباہ کن سیلاب اور مٹی، پتھروں اور برفانی تودے کے بڑے پیمانے پر بہاؤ کے بعد کئی ہائیڈرو پاور منصوبوں میں کام کرنے والے سینکڑوں افراد لاپتا ہوگئے۔ ان میں سے بہت سے افراد کے سرنگوں کے اندر پھنسے ہونے کا خدشہ ہے
اس انتہائی مشکل صورتحال میں ایک غیر معمولی طریقہ ریسکیو آپریشن میں مدد دے رہا ہے: انجینئرز اور تکنیکی ماہرین کا ایک بڑا WhatsApp گروپ
اس گروپ میں موجود انجینئرز ریسکیو کارکنوں کو ان سرنگوں کے نقشے، ڈیزائن، راستوں اور اندرونی ساخت کے بارے میں معلومات فراہم کر رہے ہیں چونکہ سیلاب کے بعد سرنگوں کے کئی داخلی راستے لاکھوں ٹن مٹی اور ملبے کے نیچے دب گئے ہیں، زمین پر موجود ریسکیو ٹیموں کے لیے یہ جاننا انتہائی مشکل ہے کہ سرنگ کہاں سے شروع ہوتی ہے اور اندر سے کس سمت جاتی ہے
سیلاب نے نیپال کی Trishuli Valley کو شدید نقصان پہنچایا۔ کئی ہائیڈرو پاور منصوبوں کے علاقے ملبے، کیچڑ اور پانی سے بھر گئے۔ بعض مقامات پر سرنگوں کے داخلی راستوں تک پہنچنا ہی سب سے بڑا چیلنج بن گیا ہے
رپورٹس کے مطابق تقریباً 900 افراد مختلف ہائیڈرو پاور منصوبوں سے لاپتا ہیں، جبکہ سیکڑوں کے سرنگوں میں پھنسے ہونے کا خدشہ ہے
ریسکیو ٹیمیں بھاری مشینری، ہیلی کاپٹروں اور دیگر آلات کے ذریعے ملبہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہیں بعض مقامات پر ممکنہ زندہ افراد تک آکسیجن پہنچانے کے لیے پائپ بھی استعمال کیے جا رہے ہیں
یہ صرف عام لوگوں کا WhatsApp گروپ نہیں ہے اس میں انجینئرز، ہائیڈرو پاور ماہرین، ریسکیو سے متعلق افراد اور ایسے لوگ شامل ہیں جو ان منصوبوں اور سرنگوں کی ساخت سے واقف ہیں
مثلاً اگر ریسکیو ٹیم کسی جگہ ملبے کے نیچے سرنگ کا راستہ تلاش کر رہی ہو تو انجینئر گروپ میں موجود پرانے نقشوں اور ڈیزائن کو دیکھ کر بتا سکتے ہیں
“اس جگہ سے آگے سرنگ کس سمت جاتی ہے، کہاں کمرہ یا راستہ موجود ہو سکتا ہے، اور کس مقام پر پہنچنے سے اندر موجود لوگوں تک رسائی کا امکان زیادہ ہے
یوں موبائل فون پر شیئر ہونے والی تکنیکی معلومات زمین پر موجود ریسکیو کارکنوں کے لیے عملی رہنمائی بن رہی ہیں
ریسکیو آپریشن کے دوران Upper Trishuli 3A Hydropower Station کی ایک سرنگ سے دو کارکنوں کو نو دن بعد زندہ نکال لیا گیا
ان دونوں کی شناخت Sanjay Sah اورKabir Maharjan کے طور پر ہوئی ہے ریسکیو ٹیموں نے سرنگ کے اندر سے آوازیں سننے کے بعد ان تک رسائی حاصل کی دونوں کو نکال کر طبی امداد کے لیے کھٹمنڈو منتقل کیا گیا
ان دونوں کی زندہ بازیابی نے ریسکیو ٹیموں اور لاپتا افراد کے خاندانوں میں امید پیدا کردی ہے کہ شاید مزید لوگ بھی سرنگوں کے اندر زندہ موجود ہوں
ریسکیو ٹیموں کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ ملبے کی غیر معمولی مقدار، سرنگوں کے بند راستے اور بدل جانے والی زمینی ساخت ہے۔ کئی جگہوں پر یہ بھی واضح نہیں کہ ملبے کے نیچے سرنگ کا اصل داخلی راستہ کہاں موجود ہے
اسی لیے انجینئرز کا WhatsApp نیٹ ورک صرف رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک طرح کا ریسکیو کمانڈ سپورٹ سسٹم بن گیا ہے، جہاں ماہرین فوری طور پر نقشے اور تکنیکی معلومات فراہم کر رہے ہیں
اس پوری کہانی کا سب سے حیران کن پہلو یہی ہے ایک طرف زمین پر ریسکیو کارکن کروڑوں ٹن ملبے سے لڑ رہے ہیں، اور دوسری طرف موبائل فون پر بیٹھے انجینئرز سرنگوں کے نقشوں اور اپنی تکنیکی مہارت کے ذریعے انہیں بتا رہے ہیں کہ کہاں کھودنا ہے اور کہاں ممکنہ طور پر زندگی موجود ہو سکتی ہے
اور دو کارکنوں کا نو دن بعد زندہ مل جانا اس مشکل ترین آپریشن میں اب تک امید کی سب سے بڑی علامت بن گیا ہے





