نیویارک میں امیر مزید امیر، 90 فیصد شہریوں کی آمدنی جمود کا شکار، زُہران ممدانی کے ’’قابلِ استطاعت شہر‘‘ کے وعدے کو سب سے بڑا امتحان درپیش

نیویارک میں امیر مزید امیر، 90 فیصد شہریوں کی آمدنی جمود کا شکار، زُہران ممدانی کے ’’قابلِ استطاعت شہر‘‘ کے وعدے کو سب سے بڑا امتحان درپیش

نیویارک سٹی کی معیشت میں دولت کی تقسیم کا نیا منظرنامہ میئر زُہران ممدانی کے اس سیاسی وعدے کے سامنے ایک بڑا امتحان بن کر کھڑا ہو گیا ہے کہ وہ شہر کو عام آدمی کے لیے دوبارہ قابلِ استطاعت بنائیں گے،نیویارک کے کمپٹرولر مارک لیوائن کی تازہ رپورٹ کے مطابق 2019 سے 2024 کے درمیان شہر کی آمدنی میں حقیقی اضافہ ہوا، لیکن اس اضافے کا بڑا حصہ انتہائی امیر طبقے تک محدود رہا، جبکہ نچلے 90 فیصد شہری مہنگائی کے مقابلے میں اپنی آمدنی کو آگے بڑھانے میں ناکام رہے
2024 میں نیویارک سٹی کے صرف اوپر کے 1 فیصد ٹیکس یونٹس نے شہر کی مجموعی آمدنی کا 37 فیصد حاصل کیا، جبکہ پورے امریکہ میں یہی تناسب 22 فیصد تھا،اس سے بھی زیادہ حیران کن صورتحال اوپر کے 0.1 فیصد طبقے کی ہے، جو تقریباً 5,000 انتہائی امیر گھرانوں پر مشتمل ہے اور شہر کی مجموعی آمدنی کا تقریباً 22 فیصد حاصل کر رہا ہے، جبکہ انتہائ امیر طبقے کی آمدنی میں اٹھاون فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے
دوسری طرف نچلے 90 فیصد شہریوں کے لیے تصویر بالکل مختلف ہے،2019 سے 2024 کے دوران اس طبقے کی حقیقی اوسط آمدنی تقریباً جمود کا شکار رہی، جبکہ حقیقی درمیانی آمدنی میں 3.2 فیصد کمی ہوئی،یعنی کاغذ پر آمدنی میں معمولی اضافہ دکھائی دے سکتا ہے، لیکن مہنگائی کو نکالنے کے بعد ایک عام نیویارکر کے ہاتھ میں بچنے والی قوتِ خرید کم ہوئی ہے
یہی وہ معاشی خلا ہے جس کے خلاف زُہران ممدانی نے اپنی انتخابی مہم تعمیر کی تھی،ان کا بنیادی سیاسی پیغام یہ تھا کہ نیویارک ایسا شہر نہیں ہونا چاہیے جہاں لاکھوں لوگ کام کرنے کے باوجود کرایہ، خوراک، بچوں کی نگہداشت اور روزمرہ سفری اخراجات برداشت نہ کر سکیں،ان کے انتخابی پروگرام میں کرائے منجمد کرنا، تیز رفتار اور مفت بسیں، عالمگیر مفت بچوں کی نگہداشت، سستے سرکاری گروسری اسٹورز اور بڑے پیمانے پر کم قیمت رہائش کی تعمیر جیسے وعدے شامل تھے
ممدانی کی سب سے نمایاں مہماتی تجویز کرایوں کو منجمد کرنا تھی،ان کا مؤقف تھا کہ کرایہ داروں کو ہر سال بڑھتے ہوئے کرایوں سے نجات دی جائے، خصوصاً ان اپارٹمنٹس میں جہاں کرایوں پر پہلے ہی سرکاری ضابطہ موجود ہے،لیکن اس وعدے کی تکمیل بھی اتنی آسان نہیں جتنی انتخابی مہم میں دکھائی دیتی تھی،سالانہ کرایہ ایڈجسٹمنٹ کا فیصلہ میئر براہِ راست نہیں کرتے بلکہ نیویارک سٹی کا 9 رکنی کرایہ رہنمائی بورڈ کرتا ہے،ممدانی نے اسی لیے اس بورڈ میں اپنے ایجنڈے سے ہم آہنگ ارکان مقرر کیے
اب اس پالیسی کو عدالت میں بھی چیلنج کیا جا رہا ہے،نیویارک کی ایک ریاستی عدالت میں مکان مالکان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ممدانی انتظامیہ نے کرایہ رہنمائی بورڈ پر غیر مناسب اثرانداز ہو کر کرایے منجمد کروائے،دوسری طرف شہر کا مؤقف ہے کہ بورڈ نے مالی اعدادوشمار اور دیگر متعلقہ معلومات کا جائزہ لے کر قانونی طریقۂ کار کے مطابق فیصلہ کیا،مقدمے پر فیصلہ آنے تک ممدانی کا کرایہ منجمد کرنے کا منصوبہ ایک قانونی آزمائش بھی بنا ہوا ہے
ممدانی کے لیے اصل مسئلہ صرف کرایہ نہیں بلکہ نیویارک کے پورے معاشی ڈھانچے کا ہے،کمپٹرولر کی رپورٹ بتاتی ہے کہ انتہائی امیر طبقے کی دولت میں اضافے کا بڑا حصہ تنخواہوں کے بجائے سرمایہ کاری، کاروبار، جائیداد اور دوسرے غیر اجرت ذرائع سے آنے والی آمدنی سے پیدا ہوا،چنانچہ صرف کم آمدنی والے کارکنوں کی اجرت بڑھانے سے وہ بنیادی خلیج ختم نہیں ہوگی جو سرمایہ رکھنے والوں اور صرف اپنی محنت سے آمدنی حاصل کرنے والوں کے درمیان پیدا ہو چکی ہے
یہاں ممدانی کے دوسرے بڑے وعدے بھی مشکل میں داخل ہوتے ہیں،انہوں نے 10 سال میں 200,000 نئے کم قیمت گھر بنانے کا منصوبہ پیش کیا ہے، جس کے لیے شہر کی براہِ راست سرمایہ کاری، نئی مالیاتی حکمت عملی اور زمین کے استعمال کے قوانین میں تبدیلیاں شامل ہیں،ان کا مقصد یہ ہے کہ رہائش کی قلت کم ہو اور متوسط و کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے مستقل بنیادوں پر زیادہ گھر دستیاب ہوں
لیکن 200,000 گھروں کی تعمیر محض میئر کے حکم سے نہیں ہو سکتی،زمین، تعمیراتی لاگت، منظوریوں، مقامی آبادی کی مزاحمت، ریاستی قوانین اور شہر کے بجٹ سمیت متعدد رکاوٹیں اس منصوبے کے راستے میں موجود ہیں،اگر نئی رہائش کی تعمیر طلب کے مقابلے میں سست رہی تو کرایہ منجمد کرنے کی پالیسی وقتی ریلیف تو دے سکتی ہے، لیکن شہر کی بنیادی رہائشی قلت کو ختم نہیں کرے گی
ممدانی کے لیے مالی وسائل سب سے بڑا سوال بن سکتے ہیں،مفت بسیں، عالمگیر بچوں کی نگہداشت، کم قیمت رہائش، سرکاری گروسری اسٹورز اور دیگر سماجی پروگراموں کے لیے بڑے پیمانے پر سرکاری اخراجات درکار ہیں،ممدانی نے اپنی مہم کے دوران زیادہ آمدنی والے افراد اور بڑی کارپوریشنوں پر اضافی ٹیکسوں کے ذریعے ان منصوبوں کے لیے وسائل پیدا کرنے کی حمایت کی تھی، لیکن نیویارک سٹی کی مالی ضروریات اور ریاستی حکومت کے اختیارات اس منصوبے کو پیچیدہ بنا دیتے ہیں
یہی وجہ ہے کہ ممدانی کے سامنے دو متضاد حقیقتیں کھڑی ہیں،ایک طرف تازہ اعدادوشمار ان کے اس بنیادی سیاسی مؤقف کو تقویت دیتے ہیں کہ نیویارک میں دولت کی تقسیم عام شہری کے حق میں نہیں رہی،دوسری طرف اسی مسئلے کو حل کرنے کے لیے ان کی حکومت کو ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جن کے لیے صرف میئر کی انتظامی طاقت کافی نہیں،ریاستی مقننہ، گورنر، عدالتیں، کاروباری طبقہ، مکان مالکان اور شہر کے اپنے مالی وسائل سب اس عمل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں
یہ صورت حال ممدانی کے لیے سیاسی طور پر بھی دو دھاری تلوار ہے،اگر وہ کرایے، بچوں کی نگہداشت، خوراک اور نقل و حمل کے اخراجات میں حقیقی کمی لانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ اپنے انتخابی نعرے کو عملی کامیابی میں تبدیل کر سکتے ہیں،لیکن اگر نیویارک کے عام شہری کو چند سال بعد بھی بڑھتے ہوئے کرایے، مہنگی خوراک اور بلند روزمرہ اخراجات کا سامنا رہا تو ان کے سب سے بڑے سیاسی وعدے کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے
اس وقت تازہ اعدادوشمار ممدانی کی ناکامی کا حتمی ثبوت نہیں بلکہ ان کے سامنے موجود مسئلے کی شدت کا پیمانہ ہیں،وہ جس معاشی بیماری کا علاج کرنے کا وعدہ کرکے اقتدار میں آئے ہیں، وہ محض غربت نہیں بلکہ دولت کی انتہائی غیر مساوی تقسیم، رہائش کی قلت اور متوسط طبقے کی قوتِ خرید میں کمی ہے
اور یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ایک میئر اس شہر کی معیشت کو اس حد تک تبدیل کر سکتا ہے کہ نیویارک میں دولت کی غیر معمولی مرکزیت کم ہو اور نچلے 90 فیصد شہریوں کی حقیقی آمدنی دوبارہ بڑھنا شروع ہو؟
اگر ممدانی اس سوال کا عملی جواب دینے میں کامیاب ہوتے ہیں تو ان کا ماڈل نیویارک کی سیاست سے کہیں آگے ایک قومی مثال بن سکتا ہے،لیکن اگر ان کے وعدے اخراجات، قانونی رکاوٹوں، ریاستی سیاست اور معاشی حقیقتوں کے سامنے محدود ہو گئے تو یہی اعدادوشمار ان کے خلاف یہ دلیل بن سکتے ہیں کہ انتخابی مہم میں ’’قابلِ استطاعت نیویارک‘‘ بنانا آسان تھا، لیکن اسے حقیقت میں تبدیل کرنا کہیں زیادہ مشکل ہے
فی الحال نیویارک کی معیشت ایک واضح پیغام دے رہی ہے،شہر میں دولت پیدا ہو رہی ہے، مگر اس دولت کا بڑا حصہ اوپر جا رہا ہے،ممدانی کی اصل آزمائش یہ نہیں کہ وہ دولت کی اس حقیقت کو بیان کر سکتے ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس کے بہاؤ کو کس حد تک تبدیل کر سکتے ہیں

قومی خبریں سے مزید