Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پاکستان میں بیٹریوں کی ری سائیکلنگ کی صنعت، کم سرمایہ کاری سے کاروبار شروع کرنے کے نئے مواقع

پاکستان میں بیٹریوں کی ری سائیکلنگ کی صنعت، کم سرمایہ کاری سے کاروبار شروع کرنے کے نئے مواقع

پاکستان میں لیتھیم آئن بیٹریوں کے استعمال میں اضافے کے ساتھ ان کی ری سائیکلنگ ایک ابھرتی ہوئی کاروباری صنعت بن سکتی ہے، تاہم اس شعبے میں داخل ہونے کے لیے ضروری سرمایہ اس بات پر منحصر ہے کہ سرمایہ کار بیٹری ری سائیکلنگ کے کس مرحلے سے اپنا کاروبار شروع کرتا ہے
بیٹری ری سائیکلنگ صرف ایک کاروبار نہیں بلکہ کئی مراحل پر مشتمل ایک مکمل سلسلہ ہے، جس میں استعمال شدہ بیٹریوں کو جمع کرنا، ان کی درجہ بندی، جانچ، محفوظ طریقے سے کھولنا، مشینی عمل کے ذریعے مختلف دھاتیں الگ کرنا اور آخر میں کیمیائی طریقوں سے قیمتی دھاتیں حاصل کرنا شامل ہے
پاکستان میں چھوٹے سرمایہ کاروں کے لیے ابتدائی مرحلے میں بیٹریاں جمع کرنے، ان کی جانچ، محفوظ ذخیرہ کرنے اور دوبارہ استعمال کے قابل بیٹریوں کی نشاندہی کا کاروبار نسبتاً کم سرمایہ سے شروع کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے محفوظ ذخیرہ گاہ، بیٹری جانچنے اور بجلی خارج کرنے کا سامان، حفاظتی ٹولز، آگ سے بچاؤ کا انتظام اور محفوظ نقل و حمل کی سہولت درکار ہوگی
استعمال شدہ بیٹریاں گھروں، شمسی توانائی کے نظام، الیکٹرک گاڑیوں، ٹیلی مواصلاتی نظام اور صنعتی صارفین سے جمع کی جا سکتی ہیں۔ قابل استعمال بیٹریوں کو دوبارہ فروخت کرنے، انہیں دوسری زندگی کے استعمال کے لیے تیار کرنے اور بڑی ری سائیکلنگ کمپنیوں کو درجہ بندی شدہ بیٹریاں فراہم کرنے سے آمدنی حاصل کی جا سکتی ہے
اس کے بعد بیٹری ری سائیکلنگ کا مشینی مرحلہ آتا ہے، جس میں بیٹریوں کو محفوظ طریقے سے کھول کر مخصوص حالات میں خلیوں کو توڑا جاتا ہے اس عمل کے ذریعے تانبہ، المونیم، فولاد اور پلاسٹک الگ کیے جاتے ہیں جبکہ ایک ایسا مرکب حاصل ہوتا ہے جس میں بیٹری کے اہم فعال مواد موجود ہوتے ہیں
بین الاقوامی تخمینوں کے مطابق سالانہ 100 ٹن ایسے مواد کی تیاری کی صلاحیت رکھنے والے مشینی مرکز کے لیے تقریباً $180,000 سرمایہ درکار ہو سکتا ہے، جبکہ سالانہ 9,000 ٹن کی صلاحیت بڑھانے پر سرمایہ کاری تقریباً $3.5 million تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ اعداد و شمار پاکستان کے لیے حتمی لاگت نہیں بلکہ بین الاقوامی انجینئرنگ تخمینے ہیں
ری سائیکلنگ کے اگلے مرحلے میں بیٹریوں سے لیتھیم، نکل، کوبالٹ اور مینگنیز جیسی دھاتیں حاصل کی جاتی ہیں اس کے لیے کیمیائی عمل، مخصوص مشینری، تجربہ گاہیں، کیمیائی مواد ذخیرہ کرنے کے نظام، گندے پانی کی صفائی اور ماحولیاتی تحفظ کے انتظامات درکار ہوتے ہیں
بین الاقوامی اندازوں کے مطابق سالانہ 100 ٹن کی صلاحیت رکھنے والے کیمیائی ری سائیکلنگ مرکز کے لیے تقریباً $660,000 جبکہ سالانہ 9,000 ٹن کی صلاحیت کے لیے تقریباً $12.3 million سرمایہ درکار ہو سکتا ہے۔ زیادہ درجہ حرارت پر بیٹری مواد کو پراسیس کرنے والے طریقے میں یہ تخمینہ بالترتیب تقریباً $1.06 million اور $20.7 million تک پہنچ جاتا ہے
بڑے صنعتی منصوبوں میں سرمایہ کاری اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے ایک یورپی انجینئرنگ مطالعے کے مطابق سالانہ 21,000 ٹن بیٹریوں کی ری سائیکلنگ کرنے والے کیمیائی مرکز کی تعمیر پر تقریباً $320 million جبکہ مشینی تیاری اور دھاتوں کی بازیابی کو ایک ہی منصوبے میں شامل کرنے والے مربوط مرکز پر تقریباً $440 million سرمایہ درکار ہو سکتا ہے
تاہم صرف سرمایہ کاری کسی ری سائیکلنگ منصوبے کی کامیابی کی ضمانت نہیں دیتی۔ پلانٹ کے لیے مسلسل مقدار میں استعمال شدہ بیٹریوں کی فراہمی ضروری ہے بیٹریوں کی تعداد، ان کی کیمیائی ساخت، جمع کرنے اور نقل و حمل کی لاگت، توانائی کی قیمت اور حاصل ہونے والی دھاتوں کی مارکیٹ قیمت کاروبار کی کامیابی پر براہ راست اثر ڈالتی ہے
بیٹری کی قسم بھی انتہائی اہم ہے۔ نکل اور کوبالٹ کی زیادہ مقدار رکھنے والی بیٹریوں سے حاصل ہونے والے مواد کی قیمت زیادہ ہو سکتی ہے، جبکہ لیتھیم آئرن فاسفیٹ بیٹریوں میں قیمتی دھاتوں کی مقدار نسبتاً کم ہوتی ہے۔ مستقبل میں پاکستان میں استعمال ہونے والی بیٹریوں کی اقسام بدلنے سے ری سائیکلنگ کے کاروبار کی معاشیات بھی تبدیل ہو سکتی ہیں
ماہرین کے مطابق پاکستان میں کسی بڑے ری سائیکلنگ مرکز کی تعمیر سے پہلے یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ ملک میں کتنی لیتھیم آئن بیٹریاں استعمال ہو رہی ہیں، ان کی اقسام کیا ہیں، وہ کن شعبوں میں استعمال کی جا رہی ہیں اور کب بڑی تعداد میں ناکارہ ہو کر ری سائیکلنگ کے لیے دستیاب ہوں گی
پاکستانی کاروباری افراد کے لیے اس شعبے میں داخل ہونے کا زیادہ عملی راستہ ابتدائی مراحل سے شروع ہو سکتا ہے پہلے بیٹریاں جمع کرنے اور ان کی جانچ کا نظام قائم کیا جائے، پھر محفوظ طریقے سے بیٹریاں کھولنے اور مشینی عمل کی طرف بڑھا جائے اور جب مناسب مقدار میں بیٹریاں دستیاب ہونے لگیں تو دھاتوں کی کیمیائی بازیابی جیسے بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی جائے
اس طرح بیٹری ری سائیکلنگ کا کاروبار لازماً کروڑوں ڈالر کے بڑے کارخانے سے شروع کرنے کی ضرورت نہیں نسبتاً کم سرمایہ سے جمع کرنے، جانچ اور محفوظ طریقے سے بیٹریاں کھولنے کا کاروبار شروع کرکے تجربہ اور مارکیٹ تیار کی جا سکتی ہے، جس کے بعد کاروبار کو مرحلہ وار بڑے پیمانے تک بڑھایا جا سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید