کیا کنگ چارلس اول کا 400 سال پرانا ڈوبا ہوا خزانہ واقعی مل گیا؟

کیا کنگ چارلس اول کا 400 سال پرانا ڈوبا ہوا خزانہ واقعی مل گیا؟

لندن: اسکاٹ لینڈ کے ساحل پر تقریباً 400 سال سے سمندر میں گم کنگ چارلس اول کے مبینہ خزانے سے لدی کشتی کے ملبے کی تلاش میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تاریخی جہاز کی دریافت کی ابھی حتمی تصدیق نہیں ہوئی
نیشنل جیوگرافک کی رپورٹ کے مطابق یہ خزانہ 1633 میں کنگ چارلس اول کی اسکاٹ لینڈ میں تاج پوشی کی تقریبات کے دوران ’’بلیسنگ آف برنٹس لینڈ‘‘ نامی لکڑی کی کشتی کے ساتھ سمندر برد ہوا تھا،تاریخی روایات کے مطابق کشتی برنٹس لینڈ سے لیتھ جاتے ہوئے شدید طوفان کی زد میں آ کر فورٹھ کے ساحلی علاقے میں ڈوب گئی تھی
رپورٹس کے مطابق کشتی پر شاہی زیورات، سکے، قیمتی دھاتوں کے برتن، لباس اور دیگر شاہی سامان موجود تھا،بعض تاریخی بیانات میں اس سامان کی اس وقت کی مالیت تقریباً 100,000 پاؤنڈ بتائی گئی ہے، جبکہ موجودہ قدر کے اعتبار سے اسے کروڑوں ڈالر کا خزانہ قرار دیا جاتا ہے
برنٹس لینڈ ہیریٹیج ٹرسٹ سے وابستہ رضاکار گزشتہ 30 سال سے اس جہاز کی تلاش کر رہے ہیں،حالیہ زیرِ آب تحقیقات کے دوران سمندری تہہ سے لکڑی کے ٹکڑے حاصل کیے گئے ہیں، جنہیں ممکنہ طور پر کسی قدیم جہاز کے ملبے سے متعلق قرار دیا جا رہا ہے
ٹرسٹ کے سربراہ ایان آرچیبالڈ کے مطابق تلاش کے دوران ملنے والے شواہد امید افزا ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے بارے میں برطانوی ذرائع ابلاغ میں بعض تفصیلات درست انداز میں پیش نہیں کی گئیں،ٹرسٹ آئندہ چند ماہ یا ممکنہ طور پر اگلے سال اپنی تلاش کے بارے میں باضابطہ بیان جاری کرے گا
ماہرین آثارِ قدیمہ تاہم اس دعوے کے بارے میں محتاط ہیں،بحری آثارِ قدیمہ کے ماہر شان کنگزلی کا کہنا ہے کہ ابھی تک ایسا کوئی مضبوط ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے ثابت ہو کہ ملنے والی باقیات واقعی ’’بلیسنگ آف برنٹس لینڈ‘‘ ہی کی ہیں،ان کے مطابق نہ جہاز کا ڈھانچہ ملا ہے، نہ کوئی ایسی تاریخی باقیات سامنے آئی ہیں جو اس کی شناخت یقینی بنا سکیں
ماہرین کے مطابق فورٹھ کے سمندری علاقے میں تقریباً 500 دیگر جہازوں کے ملبے موجود ہیں، جبکہ تہہ میں جمع کیچڑ اور انتہائی کم حدِ نگاہ بھی تلاش کے عمل کو مشکل بناتے ہیں
اب حاصل کیے گئے لکڑی کے نمونوں کی کاربن ڈیٹنگ اس معاملے میں اہم ثابت ہو سکتی ہے،اگر ان کی عمر 1633 کے دور سے مطابقت رکھتی ہے تو یہ اس دعوے کو تقویت دے گی کہ تقریباً چار صدیوں سے گم شاہی کشتی کا ملبہ واقعی تلاش کر لیا گیا ہے
تاہم نیشنل جیوگرافک کے مطابق اس وقت تک کنگ چارلس اول کے خزانے یا اس جہاز کی دریافت کو حتمی طور پر ثابت شدہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا

قومی خبریں سے مزید