بھارت اور چین کے سرحدی مذاکرات میں پیش رفت، مگر حتمی حل ابھی دور
نئی دہلی: بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازع پر مذاکرات میں کچھ اہم پیش رفت ہوئی ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان تقریباً 3,500 کلومیٹر طویل متنازع سرحد کے حتمی تعین اور مستقل سرحدی انتظام کا راستہ اب بھی طویل اور مشکل دکھائی دیتا ہے
بیجنگ میں بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال اور چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کے درمیان خصوصی نمائندوں کی سطح پر مذاکرات کے 25ویں دور میں 8 نکاتی اتفاق رائے سامنے آیا ہے،یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب چینی صدر شی جن پنگ کی بھارت میں برکس سربراہ اجلاس میں شرکت متوقع ہے
دونوں ممالک نے سرحدی علاقوں میں امن اور سکون برقرار رکھنے اور سابقہ معاہدوں کی بنیاد پر سرحدی تنازع کے حل کے لیے مذاکرات آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے،اس مقصد کے لیے ماہرین کے گروپ اور ورکنگ گروپ کے ذریعے بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے
مذاکرات میں بعض مناسب سرحدی شعبوں میں سرحدی حد بندی کے معاملے پر ’’ابتدائی پیش رفت‘‘ اور سرحدی انتظام کو مؤثر بنانے پر بھی بات ہوئی،تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق ’’ابتدائی اور نمایاں پیش رفت‘‘ حاصل کرنا فوری طور پر آسان نہیں ہوگا اور اس کے لیے دونوں جانب سے صبر اور مسلسل مذاکرات درکار ہوں گے
بھارت اور چین کے تعلقات 2020 میں مشرقی لداخ میں فوجی کشیدگی کے بعد شدید متاثر ہوئے تھے،دونوں ملکوں نے بعد میں فوجی اور سفارتی مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی، لیکن سرحدی مسئلے کا مستقل حل اب بھی باقی ہے
حالیہ مذاکرات اس لحاظ سے اہم ہیں کہ دونوں ممالک ایک طرف سرحدی علاقوں میں امن برقرار رکھنے پر توجہ دے رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف پہلی مرتبہ سرحدی حد بندی اور سرحدی انتظام کے وسیع تر فریم ورک پر بات چیت آگے بڑھانے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے،تاہم ماہرین کے مطابق حقیقی پیش رفت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دونوں ممالک حساس سرحدی علاقوں میں اپنے اختلافات کو کس حد تک عملی مذاکرات کے ذریعے حل کر پاتے ہیں





