Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

کم اجرت دینے والی بڑی امریکی کمپنیوں کے سی ای اوز کی تنخواہیں آسمان پر، ملازمین کی اجرت میں معمولی اضافہ

کم اجرت دینے والی بڑی امریکی کمپنیوں کے سی ای اوز کی تنخواہیں آسمان پر، ملازمین کی اجرت میں معمولی اضافہ

امریکا کی بڑی کمپنیوں میں اعلیٰ ترین عہدیداروں اور عام ملازمین کی آمدنی کے درمیان فرق مزید بڑھتا جا رہا ہے،ایک نئی رپورٹ کے مطابق ایس اینڈ پی 500 میں شامل کمپنیوں کے سی ای اوز اوسطاً اپنے ادارے کے درمیانی درجے کے ملازم سے 312 گنا زیادہ کماتے ہیں، جبکہ کم اجرت دینے والی 100 بڑی کمپنیوں میں یہ فرق بڑھ کر 615 گنا ہوگیا ہے
فاسٹ کمپنی کی رپورٹ کے مطابق انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی اسٹڈیز نے اپنی سالانہ رپورٹ ’’ایگزیکٹو ایکسس‘‘ میں ایس اینڈ پی 500 کی ان 100 کمپنیوں کا جائزہ لیا جن کے ملازمین کی درمیانی اجرت سب سے کم ہے،ادارے نے انہیں ’’لو ویج 100‘‘ کا نام دیا ہے
رپورٹ کے مطابق 2019 میں ان کمپنیوں کے سی ای او اور درمیانی ملازم کی آمدنی میں فرق 566 گنا تھا، جو 2025 تک بڑھ کر 615 گنا ہوگیا
2019 سے 2025 کے دوران ان 100 کمپنیوں کے سی ای اوز کے اوسط معاوضے میں 41.4 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ درمیانی ملازم کی اجرت صرف 20.7 فیصد بڑھی
2025 میں ان کمپنیوں کے سی ای اوز کو اوسطاً 17.5 ملین ڈالر سالانہ معاوضہ ملا، جبکہ درمیانی ملازم کی سالانہ اجرت صرف 36,571 ڈالر تھی،رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملازمین کی اجرت میں ہونے والا اضافہ اسی عرصے میں مجموعی مہنگائی کی شرح 25.9 فیصد سے بھی کم رہا
رپورٹ کے مطابق اس فرق کو بڑھانے میں کمپنیوں کی جانب سے اپنے حصص کی بڑے پیمانے پر دوبارہ خریداری بھی اہم کردار ادا کرتی ہے،2025 میں ان 100 کمپنیوں نے مجموعی طور پر 108.6 ارب ڈالر حصص کی دوبارہ خریداری پر خرچ کیے
اس فہرست میں والمارٹ نمایاں ہے،کمپنی نے 2025 میں اپنے حصص کی دوبارہ خریداری پر 8.1 ارب ڈالر خرچ کیے،انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی اسٹڈیز کے حساب سے یہی رقم والمارٹ کے تقریباً 21 لاکھ ملازمین میں تقسیم کی جاتی تو ہر ملازم کو تقریباً 3,851 ڈالر کا بونس دیا جاسکتا تھا
رپورٹ میں صرف تنخواہوں کے فرق پر ہی توجہ نہیں دی گئی بلکہ کم اجرت والے ملازمین کو درپیش دیگر مشکلات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے،اس میں صحت کی سہولت اور خوراک کی امداد جیسے سرکاری پروگراموں میں کٹوتیوں کے ساتھ ساتھ امیگریشن حکام کی کارروائیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے
رپورٹ کے مصنفین کے مطابق ان کمپنیوں کے بہت سے ملازمین ایسے سرکاری پروگراموں پر انحصار کرتے ہیں جو ان کے بنیادی اخراجات پورے کرنے میں مدد دیتے ہیں،والمارٹ کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کے ملازمین میں سے ہزاروں افراد مختلف ریاستوں میں میڈیکیڈ اور ایس این اے پی سے فائدہ اٹھاتے ہیں
انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی اسٹڈیز کا کہنا ہے کہ ان کمپنیوں کے پاس واشنگٹن میں خاصا سیاسی اثر و رسوخ بھی ہے،ان 100 کمپنیوں کے مجموعی طور پر 1,282 وفاقی لابیسٹ رجسٹرڈ ہیں، جو مختلف پالیسی معاملات پر کمپنیوں کے مفادات کی نمائندگی کرتے ہیں
رپورٹ میں ڈور ڈیش اور ٹارگٹ کا بھی ذکر کیا گیا ہے،ڈور ڈیش کے بعض ڈرائیوروں کو ملک بھر میں امیگریشن حکام نے گرفتار کیا، جبکہ ٹارگٹ کے بعض اسٹورز میں بھی امیگریشن کارروائیاں ہوئیں،رپورٹ کے مطابق جنوری 2026 میں مینیسوٹا کے ایک ٹارگٹ اسٹور میں امیگریشن حکام نے ایسے ملازمین کو بھی حراست میں لیا جو امریکی شہری تھے
رپورٹ تیار کرنے والی سارہ اینڈرسن کے مطابق مسئلہ صرف یہ نہیں کہ سی ای اوز اپنے ملازمین سے سیکڑوں گنا زیادہ کماتے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ کمپنیوں کی اعلیٰ قیادت ان مشکل حالات میں اپنے ملازمین کے تحفظ کے لیے زیادہ نمایاں کردار ادا نہیں کر رہی
رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ حصص کی دوبارہ خریداری پر پابندیاں سخت کی جائیں اور ایسی کمپنیوں پر زیادہ ٹیکس عائد کیا جائے جہاں سی ای او اور ملازمین کی آمدنی میں بہت زیادہ فرق ہو
تاہم رپورٹ کا بنیادی نتیجہ یہی ہے کہ امریکا کی بڑی کمپنیوں میں کارپوریٹ قیادت اور عام کارکن کے درمیان آمدنی کا فاصلہ مسلسل وسیع ہورہا ہے،کم اجرت دینے والی 100 ایس اینڈ پی 500 کمپنیوں میں سی ای او کی اوسط آمدنی اور درمیانی ملازم کی اجرت کا 615 گنا فرق اس بڑھتی ہوئی معاشی خلیج کی نمایاں مثال بن گیا ہے

قومی خبریں سے مزید