لبلبے کے سرطان کے علاج میں بڑی پیش رفت، ایف ڈی اے نے نئی دوا کی منظوری دے دی
امریکی ادارہ برائے خوراک و ادویات، ایف ڈی اے، نے لبلبے کے سرطان کے علاج کے لیے ریوولوشن میڈیسنز کی تیار کردہ نئی دوا کی منظوری دے دی ہے، جسے اس انتہائی مہلک سرطان کے علاج میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق سرطان کے محققین گزشتہ 4 دہائیوں سے ایک ایسی جینیاتی تبدیلی کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے جو لبلبے کے سرطان کو انتہائی خطرناک اور مشکل علاج بیماری بناتی ہے، لیکن اب تک اس کوشش میں محدود کامیابی حاصل ہوئی تھی
نئی دوا اسی مخصوص جینیاتی تبدیلی کو براہ راست نشانہ بناتی ہے،ایف ڈی اے کی بدھ کو دی گئی منظوری کے بعد ڈاکٹروں کے پاس پہلی مرتبہ ایسا منظور شدہ علاج دستیاب ہوگیا ہے جو اس بنیادی حیاتیاتی راستے کو متاثر کرتا ہے جس کے ذریعے سرطان کے خلیے بڑھتے اور پھیلتے ہیں
لبلبے کا سرطان دنیا کے مشکل ترین سرطانوں میں شمار ہوتا ہے،اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اکثر مریضوں میں بیماری اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ کافی آگے بڑھ چکی ہوتی ہے،موجودہ علاج کے باوجود اس بیماری سے متاثر ہونے والے ہر 8 میں سے تقریباً 7 مریض 5 سال کے اندر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں
نئی دوا کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ اس نے ایک ایسی جینیاتی تبدیلی کو نشانہ بنایا ہے جسے سائنس دان طویل عرصے سے سرطان کے خلاف جنگ میں ایک مشکل ہدف سمجھتے رہے ہیں
لبلبے کے سرطان کے بہت سے مریضوں میں کے آر اے ایس نامی جین میں تبدیلی پائی جاتی ہے،یہ جین خلیوں کی نشوونما اور تقسیم کو کنٹرول کرنے والے نظام کا حصہ ہے،جب اس میں مخصوص تبدیلی پیدا ہوجاتی ہے تو سرطان کے خلیوں کی بڑھوتری بے قابو ہوسکتی ہے
محققین نے کئی دہائیوں تک اس تبدیل شدہ پروٹین کو روکنے کی کوشش کی، لیکن اسے مؤثر انداز میں نشانہ بنانا انتہائی مشکل ثابت ہوا،اب نئی دوا اس رکاوٹ کو عبور کرنے کی کوشش کرتی ہے اور سرطان کے خلیوں کی نشوونما کو سست کرتی ہے
کلینیکل آزمائشوں میں دوا نے بیماری کی رفتار کم کرنے میں امید افزا نتائج دکھائے ہیں،تاہم یہ دوا ہر مریض کے لیے سرطان کو ختم کرنے کا دعویٰ نہیں کرتی،اس کی اہمیت بنیادی طور پر اس بات میں ہے کہ یہ بیماری کو قابو میں رکھنے کے لیے ایک نیا راستہ فراہم کرتی ہے
ماہرین کے لیے یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کہ اگر ایک مشکل جینیاتی ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا جاسکتا ہے تو اسی طریقے سے دوسرے ایسے سرطانوں کے علاج کے امکانات بھی پیدا ہوسکتے ہیں جن میں یہی یا اس سے ملتی جلتی جینیاتی تبدیلیاں موجود ہوتی ہیں
لبلبے کے سرطان کے مریضوں کے لیے اس منظوری کا مطلب یہ ہے کہ علاج کے موجودہ طریقوں کے ساتھ ایک نیا ہدفی علاج بھی دستیاب ہوگا،سرطان کے علاج میں ہدفی ادویات اس لحاظ سے مختلف ہوتی ہیں کہ وہ پورے جسم کے تمام تیزی سے تقسیم ہونے والے خلیوں کو متاثر کرنے کے بجائے سرطان کے خلیوں میں موجود مخصوص جینیاتی یا حیاتیاتی کمزوری کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتی ہیں
تاہم ماہرین کے مطابق نئی دوا کے حقیقی اثرات کا اندازہ وقت کے ساتھ مزید مریضوں میں اس کے استعمال اور طویل مدتی نتائج سے ہوگا
اس کے باوجود ایف ڈی اے کی منظوری کو لبلبے کے سرطان کے علاج کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل سمجھا جا رہا ہے،4 دہائیوں تک جس جینیاتی تبدیلی کو سرطان کے علاج کے لیے تقریباً ناقابلِ تسخیر ہدف سمجھا جاتا رہا، اب اسے نشانہ بنانے والی دوا ڈاکٹروں کے پاس موجود ہے





