Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ایف بی آئی نے 8 سال سے چلتا چین سے منسلک وسیع ہیکنگ نیٹ ورک کو ناکارہ بنا دیا، ہیکر قومی سلامتی کے رازوں سمیت پورے نظام کی چھان بین کرتے رہے

ایف بی آئی نے 8 سال سے چلتا چین سے منسلک وسیع ہیکنگ نیٹ ورک کو ناکارہ بنا دیا، ہیکر قومی سلامتی کے رازوں سمیت پورے نظام کی چھان بین کرتے رہے

امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے چین سے منسلک ایک بڑے سائبر جاسوسی نیٹ ورک کو ناکارہ بنا دیا ہے، جس کے ذریعے امریکی حکومت اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا رہا تھا،امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی ایک ایسے وسیع عالمی نیٹ ورک کے خلاف کی گئی جو ہیک کیے گئے آلات اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ نظام استعمال کرکے اپنی سرگرمیوں کو عام انٹرنیٹ ٹریفک میں چھپاتا تھا
ایف بی آئی کے مطابق اس سائبر آپریشن کا ہدف صرف ایک یا دو ادارے نہیں تھے،ہیکرز نے ناسا، امریکی فیڈرل ریزرو، محکمہ توانائی اور امریکی سینیٹ کے نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا، جبکہ بجلی کی کمپنیوں، ہسپتالوں اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچے کے نظام بھی ان کی کارروائیوں کی زد میں آئے
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ سرگرمی کم از کم 2018 سے جاری تھی،اس پورے نظام کو امریکی حکام نے کیو ٹی ایف وائی کا نام دیا ہے،ایف بی آئی کے مطابق اس کے پیچھے چین میں قائم ایک نجی کمپنی نانجنگ شینجیووئی نیٹ ورک ٹیکنالوجی تھی، جو مبینہ طور پر ہیک کیے گئے نیٹ ورکس اور چوری شدہ معلومات تک رسائی چین کی انٹیلی جنس اور فوجی انٹیلی جنس سے وابستہ صارفین کو فراہم کرتی تھی
اس نیٹ ورک کی سب سے اہم خصوصیت یہ تھی کہ ہیکرز اپنی اصل شناخت اور مقام چھپانے کے لیے ہزاروں متاثرہ آلات اور کلاؤڈ سروسز کو ایک عالمی بوٹ نیٹ میں تبدیل کرکے استعمال کرتے تھے،اس طرح ان کی بدنیتی پر مبنی سرگرمیاں عام انٹرنیٹ ٹریفک جیسی دکھائی دیتی تھیں اور ان کا سراغ لگانا انتہائی مشکل ہوجاتا تھا
ایف بی آئی کے سائبر شعبے کے اعلیٰ عہدیدار بریٹ لیترمین کے مطابق اس نیٹ ورک کے ذریعے 130 سے زیادہ ممالک میں موجود اداروں اور آلات کو نشانہ بنایا گیا،امریکی حکام کے مطابق ان حملہ آوروں نے خاص طور پر بڑی بجلی کمپنیوں، بڑے ہسپتالوں اور انتخابی نظام سے متعلق آلات پر توجہ دی
ہیکرز نے کیو ٹی راؤٹرز نامی آلات بھی استعمال کیے،یہ آلات ان کے صارفین کو اس وسیع ہیکنگ نیٹ ورک سے جوڑتے تھے،اس طریقے سے حملہ آور اپنی اصل شناخت چھپا سکتے تھے اور ایسا ظاہر ہوتا تھا جیسے عام صارفین کے آلات سے انٹرنیٹ ٹریفک آرہی ہو
امریکی حکام کے مطابق ہیکنگ گروپ نے چین میں موجود ایسے غیر رسمی ’’ایئرپورٹ‘‘ نیٹ ورک مراکز بھی استعمال کیے جو عام طور پر چین کے عظیم فائر وال کو عبور کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں،ان نیٹ ورکس کے ذریعے بھی ہیکرز اپنی سرگرمیوں کو عام صارفین کی انٹرنیٹ سرگرمیوں میں چھپانے کی کوشش کرتے تھے
کارروائی کے دوران ایف بی آئی اور قومی سلامتی ایجنسی نے اس ہیکنگ نیٹ ورک کے بنیادی ڈھانچے میں استعمال ہونے والے متعدد انٹرنیٹ ڈومینز اپنے قبضے میں لے لیے،ایف بی آئی کے مطابق ان ڈومینز کے بغیر ہیکنگ پلیٹ فارم کا بنیادی حصہ غیر فعال ہوگیا
امریکی اداروں نے حملہ آوروں کے استعمال کیے گئے نقصان دہ سافٹ ویئر اور تکنیکی طریقوں کی تفصیلات بھی جاری کردی ہیں تاکہ امریکی کمپنیاں اور دیگر ادارے اپنے نظام میں ایسی سرگرمیوں کی نشاندہی کرکے انہیں روک سکیں
یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی حکومت چین سے منسلک سائبر جاسوسی کو قومی سلامتی کے لیے ایک بڑھتا ہوا خطرہ قرار دے رہی ہے،خاص طور پر بجلی، ہسپتال، مواصلات، سرکاری اداروں اور انتخابی نظام جیسے اہم شعبوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت نے امریکی حکام کی تشویش میں اضافہ کیا ہے
چین نے ماضی میں امریکی ہیکنگ کے الزامات کی تردید کی ہے۔ جس چینی کمپنی کو امریکی حکام نے اس نیٹ ورک کے پیچھے قرار دیا ہے، اس سے فوری طور پر تبصرہ حاصل نہیں ہوسکا
اس کارروائی کی اہمیت صرف ایک ہیکنگ نیٹ ورک کو بند کرنے تک محدود نہیں،امریکی حکام کے مطابق اس واقعے نے یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ جدید سائبر حملہ آور کس طرح ہیک کیے گئے عام آلات، کلاؤڈ نظام اور معمول کی انٹرنیٹ ٹریفک کو استعمال کرکے ریاستی نوعیت کی جاسوسی اور حملوں کو چھپا سکتے ہیں
یعنی ایف بی آئی نے ایک بڑا نیٹ ورک ضرور توڑ دیا ہے، لیکن امریکی حکام کے لیے اصل چیلنج ایسے نئے نیٹ ورکس کی نشاندہی اور انہیں روکنا ہے جو اسی طرز پر دوبارہ قائم کیے جاسکتے ہیں

قومی خبریں سے مزید