وسکونسن کے سیاست دانوں نے جھیل مشی گن کا نام بدلنے پر ٹرمپ کا مذاق اڑا دیا
امریکی ریاست وسکونسن کے سیاست دانوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے ’’جھیل امریکا‘‘ رکھنے کے حکم کا مذاق اڑاتے ہوئے جھیل مشی گن کا نام بھی تبدیل کرنے کی طنزیہ تجویز پیش کردی
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایک انتظامی حکم پر دستخط کیے جس کے تحت کینیڈا اور امریکا کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی کے دوران جھیل اونٹاریو کا نام باضابطہ طور پر ’’جھیل امریکا‘‘ رکھنے کا اعلان کیا گیا
ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے فوری طور پر جھیل امریکا کرنے جا رہے ہیں۔‘‘
اس اعلان کے بعد وسکونسن کے سیاست دانوں نے طنزیہ انداز میں جھیل مشی گن کا نام تبدیل کرنے کی بات شروع کردی،ریاست کے ڈیموکریٹ گورنر ٹونی ایورز نے جمعرات کو سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو جاری کی جس میں وہ ایک رومال پر کچھ لکھتے ہوئے دکھائی دیے
ایورز نے ویڈیو کے ساتھ طنزیہ انداز میں اعلان کیا کہ انہوں نے ’’ابھی جھیل مشی گن کا نام جھیل وسکونسن رکھ دیا ہے،”
انہوں نے مزید کہا، ’’دیکھا، میں بھی ایسے رومالوں پر چیزیں لکھ کر ان پر دستخط کرسکتا ہوں۔‘‘
ایورز کا یہ طنز صدر ٹرمپ کے اس اقدام کی طرف اشارہ تھا جس میں ٹرمپ نے جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرنے کے لیے انتظامی حکم جاری کیا،وسکونسن کے گورنر نے اپنے پیغام میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ محض کسی دستاویز یا رومال پر نام لکھ کر کسی معروف جغرافیائی مقام کا نام تبدیل نہیں کیا جاسکتا
جھیل مشی گن وسکونسن سمیت امریکا کی پانچ عظیم جھیلوں میں شامل ہے اور اس کی سرحد مکمل طور پر امریکا کے اندر واقع ہے، جبکہ جھیل اونٹاریو امریکا اور کینیڈا کی سرحد پر واقع ہے
ٹرمپ کی جانب سے جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تنازعہ کے دوران سامنے آیا ہے۔ اس فیصلے پر طنزیہ ردعمل صرف وسکونسن تک محدود نہیں رہا بلکہ امریکی سیاست میں بھی اس اقدام کو لے کر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں
وسکونسن کے سیاست دانوں کا طنزیہ ردعمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ٹرمپ کے جغرافیائی نام تبدیل کرنے کے فیصلے نے سیاسی حلقوں میں سنجیدہ بحث کے ساتھ ساتھ مزاحیہ اور طنزیہ تبصروں کو بھی جنم دیا ہے





