Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

چین کے امیر ترین خاندان سنگاپور چھوڑ کر گئے تھے، اب دوبارہ واپسی پر غور کر رہے ہیں

چین کے امیر ترین خاندان سنگاپور چھوڑ کر گئے تھے، اب دوبارہ واپسی پر غور کر رہے ہیں

چین کے انتہائی دولت مند خاندان، جو گزشتہ چند برسوں میں اپنے اثاثوں اور کاروباری مفادات کو سنگاپور سے دبئی، جاپان اور دوسرے مالیاتی مراکز منتقل کر رہے تھے، اب دوبارہ سنگاپور کو ترجیح دینے پر غور کر رہے ہیں،چین میں بیرون ملک دولت کی نگرانی سخت ہونے، عالمی جغرافیائی سیاسی کشیدگی بڑھنے اور متبادل مراکز میں رہائش اور کاروبار سے متعلق مسائل سامنے آنے کے باعث سنگاپور کی کشش دوبارہ بڑھ رہی ہے
چین کے امیر خاندانوں کے لیے سنگاپور طویل عرصے سے بیرون ملک دولت رکھنے، کاروبار چلانے اور خاندان کے لیے نسبتاً محفوظ ماحول فراہم کرنے والا اہم مرکز رہا ہے،تاہم گزشتہ برسوں میں چینی دولت مندوں کی ایک بڑی تعداد نے دبئی، جاپان اور دیگر ممالک کا رخ کیا، جس کی ایک وجہ سنگاپور میں دولت کی جانچ پڑتال اور منی لانڈرنگ کے خلاف سخت اقدامات تھے
اب صورتحال تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے،چین کی جانب سے بیرون ملک دولت اور سرحد پار مالی سرگرمیوں کی نگرانی بڑھانے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی نے کچھ چینی خاندانوں کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ دبئی اور جاپان سمیت متبادل مقامات واقعی طویل مدت کے لیے بہتر انتخاب ہیں یا نہیں
دبئی نے چین کے دولت مند افراد کو ٹیکس کے نسبتاً سازگار نظام، عالیشان طرز زندگی اور کاروباری مواقع کی وجہ سے اپنی طرف متوجہ کیا تھا،لیکن کچھ خاندان اب سکیورٹی، طرز زندگی، بچوں کی تعلیم اور مقامی معاشرے میں گھلنے ملنے جیسے معاملات کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں
جاپان بھی چینی دولت مندوں کے لیے ایک مقبول منزل بنا، خصوصاً جائیداد اور رہائش کے حوالے سے،تاہم وہاں بھی زبان، ثقافتی فرق اور مقامی معاشرے میں انضمام کے مسائل بعض خاندانوں کے لیے باعث تشویش بن رہے ہیں
اس پس منظر میں سنگاپور ایک بار پھر مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آیا ہے،چین کے قریب جغرافیائی محل وقوع، چینی زبان اور ثقافت سے واقفیت، مضبوط مالیاتی نظام، سیاسی استحکام اور اعلیٰ معیار زندگی اسے دولت مند چینی خاندانوں کے لیے پرکشش بناتے ہیں
سنگاپور کی حکومت بھی خاندانوں کے لیے قائم سرمایہ کاری دفاتر، جنہیں فیملی آفس کہا جاتا ہے، کے حوالے سے بعض تقاضوں میں نرمی کر رہی ہے،مقصد یہ ہے کہ عالمی دولت مند افراد کے لیے ملک کی کشش برقرار رہے، تاہم حکام نے دولت کے ذرائع کی جانچ اور مالیاتی نگرانی کے سخت اصول برقرار رکھے ہیں
سنگاپور میں چینی دولت مندوں کی دوبارہ بڑھتی ہوئی دلچسپی کا ایک اشارہ عالیشان جائیدادوں کی مارکیٹ بھی ہے،چین سے تعلق رکھنے والے خریداروں کی مہنگی رہائشی جائیدادوں سے متعلق پوچھ گچھ میں 35 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے
یہ رجحان اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ چینی دولت مند اب صرف ٹیکس یا سرمایہ کاری کے فوائد کو نہیں دیکھ رہے بلکہ سکیورٹی، خاندان کے مستقبل، بچوں کی تعلیم، رہائش کے معیار اور کسی معاشرے میں طویل مدتی طور پر آباد ہونے کے امکانات کو بھی اہمیت دے رہے ہیں
تاہم سنگاپور نے دولت مند غیر ملکیوں کو متوجہ کرنے کی کوشش میں اپنے مالیاتی نظام کی نگرانی کے اصول ختم نہیں کیے،حکام نے واضح طور پر دولت کے ذرائع کی جانچ، منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات اور مالیاتی شفافیت کے تقاضوں کو برقرار رکھا ہے
چنانچہ چین کے انتہائی امیر خاندانوں کے لیے مقابلہ اب صرف یہ نہیں کہ انہیں اپنا پیسہ کہاں رکھنا ہے،اصل سوال یہ بن گیا ہے کہ دولت، سکیورٹی، کاروبار، خاندان اور طرز زندگی کے لیے طویل مدت میں کون سا ملک سب سے بہتر ماحول فراہم کرسکتا ہے
اور اسی بدلتی ترجیحات کے باعث وہ چینی دولت مند جو کبھی سنگاپور سے نکل کر دبئی اور جاپان چلے گئے تھے، اب اسی شہر ریاست میں دوبارہ واپسی کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں

قومی خبریں سے مزید