گجرات میں لاپتا خاتون، کمسن بیٹی اور نوعمر بہن کی لاشیں تالاب سے برآمد
گجرات: ڈنگہ میں لاپتا ہونے والی ایک خاتون، اس کی دو سالہ بیٹی اور 15 سالہ بہن کی لاشیں بارش کے جمع پانی سے بننے والے تالاب سے برآمد کر لی گئیں
پولیس کے مطابق 21 سالہ عروج فاطمہ، اس کی دو سالہ بیٹی رکو فاطمہ اور 15 سالہ حلیمہ سعدیہ 25 اگست کو گھر سے اپنے رشتہ داروں کے ہاں جانے کے لیے نکلی تھیں، تاہم وہ نہ اپنی منزل پر پہنچیں اور نہ ہی واپس گھر آئیں
خواتین کے اہلخانہ نے ڈنگہ پولیس کو اطلاع دی اور خدشہ ظاہر کیا کہ انہیں نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا ہے، جس کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرکے تلاش شروع کر دی
اگلے روز ڈنگہ ریسکیو اہلکاروں کو ایک کھلے میدان میں لاشیں موجود ہونے کی اطلاع ملی۔ پولیس موقع پر پہنچی تو معلوم ہوا کہ بارش کا پانی جمع ہونے کے باعث کھلا میدان تالاب کی شکل اختیار کر چکا تھا
تینوں لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے کھاریاں تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کر دیا گیا، جبکہ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر شواہد بھی جمع کیے
گجرات کے ضلعی پولیس افسر فیصل شہزاد، تفتیشی افسر حافظ امتیاز احمد اور کھاریاں کے اسسٹنٹ کمشنر احمد شیر سمیت دیگر حکام نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا
پولیس کے ترجمان کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں تینوں کی موت ڈوبنے کے باعث ہونے کا امکان سامنے آیا ہے، تاہم واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور حتمی صورتحال پوسٹ مارٹم اور فرانزک شواہد سامنے آنے کے بعد واضح ہوگی
ضلعی پولیس افسر نے متاثرہ خاندان سے تعزیت کرتے ہوئے یقین دلایا کہ واقعے کی ہر پہلو سے میرٹ پر تحقیقات کی جائیں گی اور کسی بھی امکان کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا





