مغربی بنگال میں اقتدار کے بعد بی جے پی کے لیے نیا امتحان، ترنمول کانگریس کی سیاست سے خود کو الگ رکھنا مشکل
مغربی بنگال میں پہلی مرتبہ اقتدار حاصل کرنے کے صرف چند ماہ بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کو ایک ایسے سیاسی چیلنج کا سامنا ہے جو اس کی حکومت اور تنظیم دونوں کے لیے انتہائی اہم بن گیا ہے،پارٹی نے ترنمول کانگریس کے طویل دور حکومت کے خلاف انتخابی مہم میں بھتہ خوری، کٹ منی اور مقامی کاروباری مفادات پر سیاسی اجارہ داری کے خلاف تبدیلی کا وعدہ کیا تھا، لیکن اب خود بی جے پی کے بعض مقامی کارکنوں پر اسی نوعیت کی سرگرمیوں کے الزامات سامنے آ رہے ہیں
بی جے پی کے ریاستی صدر سامک بھٹاچاریہ نے پارٹی کارکنوں کو واضح انتباہ دیا ہے کہ اقتدار میں آنے کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں بھتہ خوری، دھمکانے یا مقامی سطح پر غیر قانونی اثر و رسوخ استعمال کرنے کا اختیار مل گیا ہے،پارٹی نے ایسے کارکنوں کے خلاف تنظیمی کارروائی بھی شروع کر دی ہے
رپورٹس کے مطابق بی جے پی نے اب تک 22 عہدیداروں کو معطل کیا ہے جبکہ 250 سے زائد رہنماؤں اور کارکنوں کو مختلف الزامات پر اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کیے گئے،الزامات میں مبینہ بھتہ خوری، ترنمول کانگریس کے دفاتر پر قبضے کی کوشش، پارٹی مخالف سرگرمیاں اور دیگر غیر مناسب طرز عمل شامل ہیں
مسئلہ صرف چند کارکنوں کے خلاف کارروائی تک محدود نہیں،بی جے پی کو اس سوال کا بھی سامنا ہے کہ وہ ترنمول کانگریس کے ان رہنماؤں اور کارکنوں کو کس حد تک اپنی صفوں میں شامل کرے جنہیں ماضی میں خود بی جے پی نے بدعنوانی اور سیاسی سرپرستی کے نظام کی علامت قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنایا تھا،پارٹی کے بعض پرانے کارکنوں میں اس پالیسی پر ناراضگی پائی جاتی ہے، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ سابق ترنمول رہنماؤں کی شمولیت سے بی جے پی کی اپنی سیاسی شناخت متاثر ہو سکتی ہے
یہ خطرہ محض سیاسی بحث تک محدود نہیں رہا،حالیہ دنوں میں کلکتہ میں ایک شخص کو مبینہ حملے اور بھتہ خوری کے الزام میں گرفتار کیا گیا جس نے خود کو بی جے پی کا مقامی بوتھ صدر بتایا تھا،پولیس کے مطابق متاثرہ شخص سے رقم بھی مبینہ طور پر وصول کی گئی،بی جے پی نے واقعے سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ یہ جانچ رہی ہے کہ ملزم واقعی پارٹی کا کارکن تھا یا نہیں
اسی طرح پارٹی نے جادَوپور کی ایک خاتون عہدیدار کو بھی ایک ایسی ویڈیو سامنے آنے کے بعد معطل کیا جس میں مبینہ طور پر وہ ایک تعمیراتی کاروباری شخصیت سے رقم وصول کرتی دکھائی دیتی ہیں،ویڈیو کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی، جبکہ متعلقہ کاروباری شخصیت نے بھی کہا کہ اس نے ان کے خلاف کوئی شکایت درج نہیں کرائی
بی جے پی کی اپنی قیادت اس مسئلے کی حساسیت کو تسلیم کر رہی ہے،ریاستی وزیر دلیپ گھوش اور وزیر اگنی مترا پال نے بھی کارکنوں کو خبردار کیا ہے کہ اقتدار کے نام پر کٹ منی یا بھتہ خوری برداشت نہیں کی جائے گی،اگنی مترا پال نے اعتراف کیا کہ اقتدار میں آنے کے بعد بعض لوگ فوری مالی فائدہ حاصل کرنے کے مواقع تلاش کر رہے ہیں
یہی وہ مقام ہے جہاں بی جے پی کے لیے ’’ترنمولائزیشن‘‘ کا خطرہ پیدا ہوتا ہے،سیاسی اصطلاح میں اس سے مراد صرف سابق ترنمول رہنماؤں کی بی جے پی میں شمولیت نہیں بلکہ مقامی سیاست کے وہ طریقے بھی ہیں جنہیں بی جے پی نے برسوں تک ترنمول کانگریس کے خلاف اپنی سب سے بڑی تنقید بنایا تھا
بی جے پی کی اصل آزمائش اب یہ ہے کہ اقتدار مستحکم کرنے کے لیے اسے مقامی سطح پر وسیع تنظیمی نیٹ ورک کی ضرورت ہے، لیکن اسی نیٹ ورک کو مضبوط کرتے ہوئے اگر وہ ان عناصر کو برداشت کرتی ہے جن کے خلاف اس نے عوام سے تبدیلی کا وعدہ کیا تھا تو اس کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے
یوں مغربی بنگال میں بی جے پی کے لیے اقتدار حاصل کرنا شاید پہلی بڑی کامیابی تھی، لیکن اقتدار میں رہتے ہوئے اپنی سیاسی شناخت برقرار رکھنا اس سے کہیں زیادہ مشکل امتحان ثابت ہو سکتا ہے،پارٹی کو ثابت کرنا ہوگا کہ اس نے صرف حکومت تبدیل نہیں کی بلکہ وہ سیاسی طرز عمل بھی تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جس کے خلاف ووٹ لے کر وہ اقتدار میں آئی ہے





