آپریشن سندور کے بھارتی دعووں پر عالمی ماہرین کے سوالات، آئی ایس پی آر کا سخت ردعمل

آپریشن سندور کے بھارتی دعووں پر عالمی ماہرین کے سوالات، آئی ایس پی آر کا سخت ردعمل

اسلام آباد: پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی شدید فوجی جھڑپوں کے 15 ماہ سے زائد عرصے بعد بھی آپریشن سندور سے متعلق بھارتی مؤقف کو عالمی سطح پر کئی ماہرین اور آزاد محققین کی جانب سے سوالات کا سامنا ہے
بھارت نے اپنے مؤقف کو مزید تقویت دینے کے لیے ’’ڈی کلاسیفائیڈ: آپریشن سندور‘‘ کے نام سے ایک نئی دستاویزی فلم پیش کی ہے، جس میں 2025 کی چار روزہ فوجی کشیدگی کے دوران بھارتی کارروائیوں، منصوبہ بندی اور فوجی قیادت کے مؤقف کو نمایاں کیا گیا ہے
دستاویزی فلم میں بھارتی فوجی حکام اور کارروائی میں شریک اہلکاروں کے بیانات کے ذریعے آپریشن سندور کو ایک کامیاب فوجی کارروائی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے، تاہم آزاد دفاعی تجزیہ کاروں اور محققین نے اس بیانیے کے بعض اہم دعووں پر سوالات اٹھائے ہیں
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بھی بھارتی دستاویزی فلم کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے آئی ایس پی آر کے مطابق فلم میں واقعات کو حقیقت کے بجائے فلمی انداز میں پیش کرکے ایک ایسا بیانیہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے جس سے بھارتی عوام کے سامنے جنگ کے نتائج کو مختلف انداز میں دکھایا جاسکے
آئی ایس پی آر نے بھارتی دعووں کو ’’فلمی انداز کی جھوٹی گواہی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی کوششیں حقیقت کو تبدیل نہیں کرسکتیں اور نہ ہی بھارت کو اپنی ساکھ بچانے میں مدد دے سکتی ہیں
پاکستانی مؤقف کے مطابق دستاویزی فلم میں خود بھارتی فوجی قیادت کے بعض بیانات ایسے ہیں جو مکمل بھارتی برتری کے دعوے سے مطابقت نہیں رکھتے۔ فلم میں پاکستانی میزائل اور ڈرون حملوں، فضائی دفاعی نظام کی سرگرمی اور لائن آف کنٹرول پر ہونے والی شدید جھڑپوں کا بھی ذکر موجود ہے
آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر بھارتی کارروائی واقعی مکمل اور فیصلہ کن کامیابی تھی تو پھر پاکستانی جوابی کارروائی، بھارتی دفاعی نظام کی سرگرمی اور دونوں جانب سے فوجی کارروائی روکنے کے لیے ہونے والے رابطوں کی وضاحت بھی ضروری ہے
پاکستانی فوج کے مطابق جنگ بندی کسی ایک فریق کی یکطرفہ فتح کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ دونوں ممالک کے اعلیٰ فوجی حکام کے درمیان رابطے کے بعد فوجی کارروائیاں روکنے پر اتفاق ہوا تھا
آئی ایس پی آر نے دستاویزی فلم میں بعض واقعات کو آپس میں جوڑنے کی کوشش پر بھی سوال اٹھایا بیان کے مطابق بھارتی مؤقف میں ایسے واقعات کی تاریخیں اور ترتیب موجود ہے جنہیں ایک دوسرے سے جوڑ کر ایک مخصوص کہانی تشکیل دینے کی کوشش کی گئی ہے
پاکستانی فوج نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ اگر بھارت کے مطابق پہلگام واقعے کے ذمہ دار افراد کو بعد میں ہلاک کیا گیا تھا تو اس سے پہلے کیے گئے آپریشن سندور کو کن افراد کے خلاف کارروائی قرار دیا جارہا تھا
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران ہونے والے حقیقی واقعات، فوجی کارروائیاں، نقصانات اور دونوں جانب کے سرکاری بیانات کو کسی دستاویزی فلم کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جاسکتا
پاکستانی فوج نے واضح کیا کہ مستقبل میں کسی بھی فوجی مہم جوئی کا جواب بھرپور انداز میں دیا جائے گا اور کسی بھی مصنوعی بیانیے یا فلمی منظرکشی سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوں گے

قومی خبریں سے مزید