ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال تیسرے روز بھی جاری، ایندھن کی قیمتوں اور ٹیکسوں پر اختلاف برقرار

ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال تیسرے روز بھی جاری، ایندھن کی قیمتوں اور ٹیکسوں پر اختلاف برقرار

پاکستان میں مال بردار گاڑیوں، آئل ٹینکرز، ٹریلرز اور دیگر بھاری ٹرانسپورٹ کی ہڑتال جاری ہے، جبکہ حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات کے باوجود اہم مطالبات پر اتفاق نہیں ہوسکا۔
ٹرانسپورٹرز نے ایندھن کی قیمتوں، ٹول ٹیکس، گاڑیوں کے وزن کی حد اور ٹیکسوں سے متعلق مطالبات پیش کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ اخراجات میں کاروبار جاری رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔
ٹرانسپورٹرز کا اہم مطالبہ ہے کہ دس پہیوں والی گاڑیوں کے لیے قابلِ اجازت وزن موجودہ 27.5 ٹن سے بڑھا کر 35 ٹن کیا جائے اور ٹول ٹیکس میں کمی کی جائے۔
ٹرانسپورٹرز نے ڈیزل کی قیمتوں میں روزانہ تبدیلی کے بجائے ماہانہ بنیادوں پر قیمتوں کے تعین کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ روزانہ قیمتوں میں تبدیلی سے کاروباری منصوبہ بندی شدید متاثر ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ کسٹمز ڈیوٹی اور انکم ٹیکس سے متعلق معاملات بھی مذاکرات کا حصہ ہیں۔
حکومت کی جانب سے مذاکراتی ٹیم کی قیادت وزیرِ مواصلات علیم خان اور وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کر رہے ہیں، جبکہ متعلقہ سرکاری اداروں کے افسران بھی مذاکرات میں شریک ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث روزانہ ایندھن کی قیمتوں میں ردوبدل کیا جا رہا ہے۔ تاہم حکومت بھاری گاڑیوں کے ٹول ٹیکس میں کمی اور ایکسل لوڈ سے متعلق قواعد میں ممکنہ تبدیلی پر غور کر رہی ہے۔
دوسری جانب کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے خبردار کیا ہے کہ مال بردار ٹرانسپورٹ کی طویل ہڑتال سے صنعتی پیداوار، خام مال کی فراہمی، برآمدات، ایندھن کی سپلائی اور ملکی تجارت بری طرح متاثر ہوسکتی ہے۔ چیمبر نے حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان ثالثی کی پیشکش بھی کی ہے۔
پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے بھی وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹرانسپورٹرز کے ساتھ جلد مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کیا جائے، کیونکہ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت کی سپلائی چین اور برآمدی سامان کی بندرگاہوں تک بروقت ترسیل کا انحصار مسلسل مال بردار ٹرانسپورٹ پر ہے۔
حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور جاری ہے، تاہم ہڑتال ختم کرنے کے لیے ابھی تک کوئی حتمی معاہدہ سامنے نہیں آیا۔

قومی خبریں سے مزید