عبدل السید کی کامیابی کے بعد مشی گن سینیٹ دوڑ میں نیا امتحان، مائیک راجرز ناراض ڈیموکریٹس کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش میں

عبدل السید کی کامیابی کے بعد مشی گن سینیٹ دوڑ میں نیا امتحان، مائیک راجرز ناراض ڈیموکریٹس کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش میں

مشی گن: مشی گن کی اہم سینیٹ نشست کی انتخابی جنگ میں ری پبلکن امیدوار مائیک راجرز نے اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرتے ہوئے ڈیموکریٹک پارٹی کے ان ووٹروں کو براہِ راست متوجہ کرنا شروع کر دیا ہے جو حالیہ پرائمری انتخابات کے بعد خود کو پارٹی کے نئے امیدوار عبدل السید سے دور محسوس کر رہے ہیں
عبدل السید نے ڈیموکریٹک پرائمری میں سابق کانگریس رکن ہیلی اسٹیونز کو انتہائی معمولی فرق سے شکست دی۔ یہ مقابلہ ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند اور اعتدال پسند دھڑوں کے درمیان نظریاتی کشمکش کی علامت سمجھا جا رہا ہے
ہیلی اسٹیونز کے حامیوں نے پرائمری میں تقریباً نصف ووٹ حاصل کیے، اور اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ان ووٹروں کا رخ نومبر کے عام انتخابات میں کہاں ہوگا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ان میں سے ایک بڑا حصہ بالآخر پارٹی اتحاد کے تحت عبدال السید کے ساتھ آ سکتا ہے، کیونکہ ڈیموکریٹک ووٹر عموماً عام انتخابات میں ری پبلکن امیدوار کے مقابلے میں اپنی پارٹی کے امیدوار کو ترجیح دیتے ہیں۔ تاہم، ترقی پسند اور اعتدال پسند دھڑوں کے درمیان نظریاتی فاصلے کے باعث کچھ ووٹر غیر فعال رہ سکتے ہیں یا آزاد امیدواروں کی طرف جا سکتے ہیں
ری پبلکن امیدوار مائیک راجرز اسی خلا کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں براہِ راست ان ڈیموکریٹ ووٹروں کو مخاطب کیا جو عبدال السید کی نامزدگی سے مطمئن نہیں۔ راجرز کا کہنا ہے کہ مشی گن کو ایسا سینیٹر چاہیے جو تمام شہریوں کی بات سنے اور صرف ایک نظریاتی دھڑے کی نمائندگی نہ کرے
تجزیہ کاروں کے مطابق راجرز کی حکمتِ عملی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ وہ کتنے ناراض اعتدال پسند ڈیموکریٹس اور آزاد ووٹروں کو اپنی طرف لا سکتے ہیں۔ تاہم، ماضی کے انتخابی رجحانات بتاتے ہیں کہ کسی پرائمری میں شکست کھانے والے امیدوار کے تمام ووٹر دوسری جماعت کی طرف منتقل نہیں ہوتے؛ اکثر ووٹر اپنے نظریاتی اختلافات کے باوجود اپنی پارٹی کے امیدوار کے ساتھ رہتے ہیں
مشی گن میں یہ مقابلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ ایک ایسی ریاست ہے جہاں چند ہزار ووٹ بھی سینیٹ کے توازن پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ بعض ابتدائی جائزوں میں عبدال السید ترقی پسند ووٹروں، نوجوانوں اور تعلیم یافتہ طبقے میں مضبوط دکھائی دیتے ہیں، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ عام انتخابات میں انہیں معتدل اور غیر جماعتی ووٹروں کو بھی قائل کرنا ہوگا
دوسری طرف ری پبلکن پارٹی عبدال السید کی ترقی پسند سیاست کو نشانہ بنا رہی ہے اور اسے ایسے امیدوار کے طور پر پیش کر رہی ہے جو مشی گن کے تمام ووٹروں کے لیے قابلِ قبول نہیں ہوگا۔ عبدال السید کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ ان کی مہم صحت، معاشی انصاف اور عام شہریوں کے مسائل پر مرکوز ہے اور یہی پیغام انہیں وسیع حلقے تک پہنچا سکتا ہے
اب اصل مقابلہ صرف عبدال السید اور مائیک راجرز کے درمیان نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی اپنے اندرونی اختلافات کو کس حد تک ختم کر پاتی ہے۔ اگر ہیلی اسٹیونز کے زیادہ تر ووٹر پارٹی اتحاد کے تحت عبدال السید کے ساتھ کھڑے ہو گئے تو ری پبلکن حکمتِ عملی کو بڑا چیلنج درپیش ہوگا، لیکن اگر ناراضگی برقرار رہی تو مائیک راجرز کے لیے یہ ایک اہم موقع بن سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید