باپ کی آخری رسومات ویڈیو کال پر، بزرگوں کی تنہائی نے بدلتے خاندانی رشتوں پر نئی بحث چھیڑ دی

باپ کی آخری رسومات ویڈیو کال پر، بزرگوں کی تنہائی نے بدلتے خاندانی رشتوں پر نئی بحث چھیڑ دی

بھارت کی ریاست ہریانہ میں ایک بزرگ شخص کی موت اور اس کی آخری رسومات کا واقعہ معاشرے میں بزرگوں کی تنہائی اور بدلتے ہوئے خاندانی تعلقات پر سوالات اٹھا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایک عمر رسیدہ شخص ایک اولڈ ایج ہوم میں انتقال کر گیا، لیکن اس کی بیٹیاں اس کی آخری رسومات میں شریک نہ ہو سکیں۔ جنازے اور آخری رسومات اولڈ ایج ہوم کے عملے اور مقامی افراد نے ادا کیں، جبکہ بیٹیوں نے یہ منظر ویڈیو کال کے ذریعے دیکھا۔

بتایا گیا ہے کہ بیٹیوں نے آخری رسومات کے اخراجات کے لیے تقریباً 5,100 روپے بھیجے، لیکن وہ خود موقع پر موجود نہیں تھیں۔

اس واقعے نے بھارت میں بزرگ والدین کی دیکھ بھال، خاندان کے بدلتے ہوئے ڈھانچے اور جدید زندگی میں رشتوں کی کمزور ہوتی وابستگی پر بحث شروع کر دی ہے۔

سماجی ماہرین کے مطابق شہروں کی طرف ہجرت، روزگار کی مصروفیات، بیرونِ ملک یا دوسرے شہروں میں رہائش اور خاندانی نظام میں تبدیلیوں نے بزرگوں کی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ بہت سے عمر رسیدہ افراد اب ایسی جگہوں پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جہاں انہیں بنیادی سہولتیں تو مل جاتی ہیں، لیکن جذباتی وابستگی اور خاندانی قربت کم ہو جاتی ہے۔

تاہم بعض ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ ہر واقعے کو صرف اولاد کی بے حسی سے نہیں جوڑا جا سکتا، کیونکہ بعض خاندان معاشی، جغرافیائی یا دیگر پیچیدہ حالات کا سامنا کرتے ہیں۔

لیکن اس واقعے نے ایک بنیادی سوال ضرور اٹھایا ہے کہ ترقی، مصروف زندگی اور بدلتے سماجی ڈھانچے کے درمیان بزرگوں کے لیے جذباتی تحفظ اور خاندانی ذمہ داریوں کو کیسے برقرار رکھا جائے۔

ایک ایسے دور میں جب رابطے کے لیے ٹیکنالوجی آسانی پیدا کر رہی ہے، یہ واقعہ یاد دلاتا ہے کہ بعض مواقع پر ویڈیو کال انسانی موجودگی کا متبادل نہیں بن سکتی

قومی خبریں سے مزید