امریکی فوج کو مصنوعی ذہانت کے استعمال میں پابندیوں کا سامنا، اے آئی ٹوکنز کا ذخیرہ ختم
امریکی فوج کے بعض شعبوں کو مصنوعی ذہانت کے استعمال پر نئی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ فوج کی جانب سے مختص کیے گئے اے آئی ٹوکنز تیزی سے ختم ہو گئے ہیں۔ یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی محکمہ دفاع نے حال ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ اس کے تقریباً 35 لاکھ ملازمین میں سے نصف کے قریب کام کے دوران مصنوعی ذہانت استعمال کر رہے ہیں۔
امریکی فوج کے جنگی صلاحیتوں کی ترقی کے کمانڈ کے اہلکاروں کو ایک ای میل کے ذریعے بتایا گیا کہ وہ مصنوعی ذہانت کے ٹوکنز بہت تیزی سے استعمال کر رہے ہیں اور انہیں استعمال محدود کرنا ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق فوج کے چیف انفارمیشن افسر نے مئی 2026 میں لامحدود اے آئی ٹوکنز کی سہولت دینے کا اعلان کیا تھا، تاہم جون کے وسط تک یہ ذخیرہ ختم ہو گیا، جس کے بعد استعمال کی حد دوبارہ مقرر کرنا پڑی۔
فوج نے موجودہ سطح پر ٹوکنز کی فراہمی بحال کر دی ہے، لیکن یہ واضح نہیں کہ یکم اکتوبر کے بعد یہ سہولت جاری رہے گی یا نہیں۔
یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو بڑے پیمانے پر اپنانے کے ساتھ صرف ٹیکنالوجی ہی نہیں بلکہ کمپیوٹنگ وسائل، اخراجات اور انتظامی منصوبہ بندی بھی ایک بڑا چیلنج بن رہے ہیں





