راہول گاندھی سے بالی ووڈ ستاروں تک، سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال نے بھارت میں سیاسی اور سماجی حمایت کی لہر پیدا کر دی

راہول گاندھی سے بالی ووڈ ستاروں تک، سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال نے بھارت میں سیاسی اور سماجی حمایت کی لہر پیدا کر دی

لداخ کے معروف ماہرِ تعلیم اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی طویل بھوک ہڑتال نے بھارت میں ایک نئی سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔ کانگریس رہنما راہول گاندھی سمیت کئی اپوزیشن رہنماؤں، سماجی شخصیات اور فلمی دنیا سے وابستہ افراد نے وانگچک کے احتجاج اور انہیں جنتر منتر سے اسپتال منتقل کیے جانے پر سوالات اٹھائے ہیں
راہول گاندھی نے مرکزی حکومت کی کارروائی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پرامن احتجاج کرنے والوں کو طاقت کے ذریعے خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو طلبہ اور شہریوں کے مسائل سننے چاہئیں اور احتجاج کو دبانے کے بجائے بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے
سونم وانگچک کئی دنوں سے نئی دہلی کے جنتر منتر پر غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر تھے۔ ان کے حامی تعلیمی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں، امتحانات میں شفافیت اور حکومتی جواب دہی جیسے مطالبات اٹھا رہے ہیں۔ وانگچک کی طبیعت خراب ہونے کے بعد انہیں اسپتال منتقل کیا گیا، جس کے بعد احتجاج مزید سیاسی توجہ کا مرکز بن گیا
فلمی دنیا سے بھی کئی نمایاں آوازیں وانگچک کی حمایت میں سامنے آئی ہیں۔ اداکارہ سوناکشی سنہا، عمران خان، فاطمہ ثنا شیخ اور دیگر فنکاروں نے سوشل میڈیا کے ذریعے ان کے مطالبات کی حمایت کی اور حکومت سے مذاکرات کی اپیل کی
اداکار شیکھر سمن نے بھی وانگچک کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے کہا کہ ایسے افراد معاشرے میں زندہ ضمیر کی علامت ہوتے ہیں۔ انہوں نے تعلیمی معاملات اور حکومت کے ردِعمل پر سوال اٹھائے
سیاسی حلقوں میں بھی حمایت کا دائرہ وسیع ہوا ہے۔ عام آدمی پارٹی، ترنمول کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے کئی رہنماؤں نے وانگچک کے احتجاج کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا اور حکومت سے مذاکرات کا مطالبہ کیا
مہاراشٹرا کے رہنما ادھو ٹھاکرے نے بھی مرکزی حکومت پر زور دیا کہ وہ وانگچک کے ساتھ بات چیت کرے اور ان کے اٹھائے گئے مسائل کو سنجیدگی سے لے
دوسری جانب وانگچک کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کا احتجاج کسی سیاسی جماعت کے لیے نہیں بلکہ طلبہ، تعلیم اور شفاف نظام کے مطالبے کے لیے ہے۔ احتجاجی کارکنوں نے اعلان کیا ہے کہ وانگچک کی غیر موجودگی میں بھی تحریک جاری رہے گی
سونم وانگچک، جنہیں بھارت میں تعلیمی اصلاحات اور لداخ کے ماحولیاتی مسائل کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے، ماضی میں بھی عوامی مسائل پر پرامن احتجاج کرتے رہے ہیں۔ موجودہ تحریک نے ایک بار پھر یہ بحث زندہ کر دی ہے کہ جمہوریت میں احتجاج، حکومت کی جواب دہی اور عوامی آواز کے درمیان توازن کس طرح قائم کیا جائے

قومی خبریں سے مزید