سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعد پاکستان کو خدشہ، کہیں وہ امریکہ ایران کشیدگی میں نہ گھسیٹا جائے

سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعد پاکستان کو خدشہ، کہیں وہ امریکہ ایران کشیدگی میں نہ گھسیٹا جائے

یمن کے ایران نواز حوثی گروہ کی جانب سے اس ہفتے سعودی عرب پر کیے گئے حملوں نے پاکستان کے لیے ایک نئی سفارتی اور سکیورٹی آزمائش پیدا کر دی ہے۔ اسلام آباد کو خدشہ ہے کہ یہ کشیدگی اسے امریکہ اور ایران کے تنازع میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر شامل کر سکتی ہے، جس سے مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کا کردار بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

پاکستانی حکام نے ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ سعودی عرب پر حملے ایک سرخ لکیر عبور کرنے کے مترادف ہیں۔ اسلام آباد میں پالیسی سازوں کو تشویش ہے کہ حوثیوں کی جانب سے مزید حملے خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں اور پاکستان کے لیے ایک مشکل توازن برقرار رکھنا مزید پیچیدہ ہو جائے گا۔

پاکستان، جو جوہری صلاحیت رکھنے والا ملک ہے، گزشتہ ماہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگی کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک عبوری معاہدے میں کردار ادا کر چکا ہے۔ تاہم سعودی عرب کے خلاف حملوں نے اس سفارتی کوشش کو نئے چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گزشتہ سال ایک باہمی دفاعی معاہدہ بھی ہوا تھا۔ اس معاہدے کے تحت ہزاروں پاکستانی فوجی سعودی عرب میں تعینات ہیں، جبکہ پاکستانی فضائیہ کے جنگی طیاروں کا ایک دستہ بھی وہاں موجود ہے۔ اسی وجہ سے اسلام آباد کو خدشہ ہے کہ اگر خطے میں تصادم پھیلتا ہے تو پاکستان پر اپنے اتحادی سعودی عرب کے دفاع کے حوالے سے دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایرانی قیادت کے اندرونی اختلافات اور خطے میں مختلف گروہوں کے کردار نے بھی پاکستان کی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ بعض پاکستانی حکام کا خیال ہے کہ ایران سے وابستہ مسلح گروہوں کی کارروائیاں سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق موجودہ صورتحال کے باعث ایرانی قیادت کے ایک اہم دورۂ پاکستان کو بھی مؤخر کیا گیا ہے۔ اسلام آباد اب محتاط انداز میں سفارتی راستہ اختیار کر رہا ہے تاکہ ایک طرف ایران کے ساتھ تعلقات برقرار رہیں اور دوسری جانب سعودی عرب کے ساتھ دفاعی شراکت داری متاثر نہ ہو۔

خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال میں پاکستان ایک بار پھر ایک مشکل سفارتی توازن کا سامنا کر رہا ہے: ایک طرف ایران اس کا ہمسایہ ہے، جبکہ دوسری طرف سعودی عرب ایک اہم اتحادی اور اقتصادی شراکت دار ہے۔ موجودہ کشیدگی نے اسلام آباد کے لیے غیر جانب دار رہتے ہوئے امن کوششوں کو آگے بڑھانے کا راستہ مزید دشوار بنا دیا ہے

قومی خبریں سے مزید