ٹرمپ نے انتخابی سلامتی پر نئے الزامات دہرا دیے، ڈیموکریٹ رہنماؤں نے دعوے مسترد کر دیے
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی سلامتی کے موضوع پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے انتخابات کے نظام کو اپنی حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا اور کہا کہ انتخابی عمل پر عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر کے خطاب میں ایسے نکات پیش کیے گئے جنہیں انتظامیہ اہم انکشافات قرار دے رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں ایک بار پھر 2020 کے صدارتی انتخابات کے نتائج پر سوالات اٹھائے اور سخت ووٹر شناختی قوانین، شہریت کی لازمی تصدیق اور انتخابی ضابطوں کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی انتظامیہ انتخابی بے ضابطگیوں سے متعلق تمام دعووں کا ازسرنو جائزہ لے رہی ہے تاکہ عوام کو یہ یقین دلایا جا سکے کہ ہر ووٹ قانون کے مطابق شمار ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ کئی ماہ سے متعدد وفاقی ادارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فائلوں، ووٹنگ کے ریکارڈ اور انتخابی شکایات کا دوبارہ جائزہ لے رہے ہیں۔ ان میں وہ الزامات بھی شامل ہیں جن کی ماضی میں تحقیقات ہو چکی تھیں اور جنہیں متعلقہ حکام نے ناقابلِ ثبوت یا بے بنیاد قرار دیا تھا۔
صدر کے خطاب سے واقف ذرائع کے مطابق اس میں چین کی مبینہ مداخلت سے متعلق دعوے بھی شامل تھے۔ تاہم 2020 کے انتخابات کے بعد امریکی انتخابی حکام اور وفاقی اداروں نے بارہا کہا تھا کہ انہیں ووٹوں میں ردوبدل، انتخابی مشینوں میں مداخلت یا انتخابی نظام کے متاثر ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا، اگرچہ غیر ملکی طاقتوں کے ممکنہ اثر و رسوخ کے بارے میں مختلف اداروں کی تشخیص میں بعض اختلافات موجود رہے تھے۔
ڈیموکریٹ رہنماؤں نے صدر کے خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسے الزامات پہلے بھی متعدد تحقیقات میں مسترد کیے جا چکے ہیں اور عوام کو گمراہ کرنے کے بجائے مصدقہ حقائق کو سامنے رکھا جانا چاہیے۔ دوسری جانب بعض ریپبلکن رہنماؤں نے خواہش ظاہر کی کہ پارٹی کی توجہ انتخابی تنازعات کے بجائے معیشت، قومی سلامتی اور دیگر داخلی پالیسی معاملات پر مرکوز رہے۔
امریکی سیاست میں انتخابی شفافیت کا معاملہ بدستور شدید اختلاف کا سبب بنا ہوا ہے، جہاں ایک جانب ریپبلکن قیادت انتخابی قوانین کو مزید سخت بنانے کی وکالت کر رہی ہے، جبکہ ڈیموکریٹ رہنما ایسے اقدامات کو ووٹ ڈالنے کے حق پر غیر ضروری پابندیوں سے تعبیر کرتے ہیں





