آبنائے ہرمز پر امریکا اور ایران کا کنٹرول کا دعویٰ، عالمی توانائی کی رسد ایک بار پھر خطرے میں
دبئی — امریکا اور ایران نے پیر کو آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ خطے میں حملوں کے نئے سلسلے نے جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق یہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھی جب ایران نے اتوار کو عمان کے ساحل کے قریب آبنائے ہرمز میں ایک مال بردار بحری جہاز کو نشانہ بنایا۔ اس حملے کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان خلیجی خطے میں حملوں کا تبادلہ ہوا، جس نے دنیا کی توانائی کی رسد کے لیے انتہائی اہم اس آبی گزرگاہ کی سلامتی پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
آبنائے ہرمز خلیج فارس کا ایک تنگ راستہ ہے جہاں سے دنیا کی خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ عالمی توانائی کے نظام میں اس آبی گزرگاہ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، کیونکہ اس کے ذریعے روزانہ لاکھوں بیرل تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جنگ کے آغاز سے ہی آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر رہی ہے، جہاں ایران نے تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنا کر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی، جبکہ امریکا نے اس راستے کو کھلا رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
تازہ حملوں کے بعد دونوں ممالک ایک دوسرے کے دعووں کو مسترد کر رہے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ اسے آبنائے ہرمز پر مؤثر کنٹرول حاصل ہے، جبکہ امریکا کا مؤقف ہے کہ یہ بین الاقوامی تجارت کے لیے کھلا راستہ ہے اور کسی ایک ملک کو اس کی آمدورفت روکنے کا اختیار نہیں۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز پر بڑھتی کشیدگی نہ صرف مشرق وسطیٰ کی جنگ کو مزید پھیلا سکتی ہے بلکہ عالمی توانائی کی قیمتوں، بحری تجارت اور عالمی معیشت پر بھی براہ راست اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
موجودہ صورتحال میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا فریقین مذاکرات کی طرف واپس آتے ہیں یا آبنائے ہرمز ایک ایسے محاذ میں تبدیل ہو جاتی ہے جو پوری دنیا کی توانائی سلامتی کو متاثر کر سکتا ہے





