Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اہم خبریں

پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا، سندھ کے چاول کے کاشتکار خطرے میں، صوبوں کے درمیان آبی تنازع بڑھنے لگا

پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا، سندھ کے چاول کے کاشتکار خطرے میں، صوبوں کے درمیان آبی تنازع بڑھنے لگا

کراچی — ملک میں پانی کی تقسیم کا تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں دریائے سندھ کے پانی کی کمی کے باعث سندھ کے خصوصاً چاول کے کاشتکاروں کو رواں خریف سیزن میں بھاری مالی نقصان کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

آبی ماہرین اور کسان رہنماؤں کے مطابق تربیلا ڈیم پر جاری کاموں سے پانی کے اخراج کا نظام متاثر ہوا ہے، جس کے باعث سندھ کو مطلوبہ مقدار میں پانی کی فراہمی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ واپڈا کے پن بجلی منصوبے میں غیر معمولی تاخیر نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

پانی کی کمی نے نہ صرف زرعی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے بلکہ صوبوں کے درمیان اختلافات بھی بڑھا دیے ہیں۔ بلوچستان نے الزام عائد کیا ہے کہ سندھ گڈو اور سکھر بیراجوں سے بلوچستان کے حصے کا پانی مکمل طور پر فراہم نہیں کر رہا، جس سے دونوں صوبوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہو رہی ہے۔

سندھ کے چاول کے کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ پانی کی قلت کے باعث وہ بروقت نرسریاں تیار نہیں کر سکے، جو چاول کی فصل کے لیے بنیادی مرحلہ ہے۔ نرسری میں تیار ہونے والی پنیری تقریباً ۳۵ سے ۴۰ دن بعد کھیتوں میں منتقل کی جاتی ہے، لیکن اس کے لیے مسلسل اور مناسب پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔

شہداد کوٹ سے تعلق رکھنے والے تجربہ کار کاشتکار اسحاق مغیری کے مطابق اگر پنیری مقررہ وقت سے زیادہ نرسری میں رہ جائے تو اس پر کیڑوں کا حملہ ہو سکتا ہے، جبکہ دیر سے منتقلی فصل کی پیداوار کو نمایاں طور پر کم کر دیتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ صورتحال اس حد تک خراب ہے کہ بعض علاقوں میں زرعی پانی تو دور کی بات، پینے کے پانی کی دستیابی بھی ایک مسئلہ بن چکی ہے۔

کاشتکار کے مطابق گزشتہ سال پانی کی کمی کے باعث انہوں نے ۵۰ سے ۶۰ ایکڑ رقبے سے صرف ۴۰ من چاول حاصل کیے تھے، جبکہ رواں سال بھی حالات میں بہتری نظر نہیں آ رہی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پانی کی تقسیم ہمیشہ سے ایک حساس معاملہ رہا ہے۔ اگر بروقت پانی کی منصفانہ تقسیم، ڈیموں کے بہتر انتظام اور صوبوں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری نہ کی گئی تو زرعی پیداوار، خوراکی تحفظ اور دیہی معیشت پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

آبی تنازعات کے حل کے لیے مشترکہ مفادات کونسل اور دریائے سندھ کے نظام سے متعلق اداروں کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ صوبوں کے درمیان اعتماد بحال ہو اور کسانوں کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے

قومی خبریں سے مزید