Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اہم خبریں

یوکرین جنگ میں روس نے جاپان کو ٹیکنالوجی کے حصول کا راستہ بنا لیا، خفیہ سرگرمیوں کے الزامات

یوکرین جنگ میں روس نے جاپان کو ٹیکنالوجی کے حصول کا راستہ بنا لیا، خفیہ سرگرمیوں کے الزامات

واشنگٹن — ایک نئی رپورٹ کے مطابق روس نے یوکرین کے خلاف جاری جنگ میں جدید ٹیکنالوجی اور خفیہ معلومات کے حصول کے لیے جاپان کو ایک اہم مرکز کے طور پر استعمال کیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ روسی جاسوسی نیٹ ورک جاپان میں سرگرم رہے اور وہاں سے ایسی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی جو جنگی مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق مغربی ممالک کی جانب سے روسی سفارت کاروں اور مبینہ جاسوسوں کو نکالے جانے کے بعد کچھ روسی خفیہ اہلکار جاپان منتقل ہوئے۔ رپورٹ میں مغربی انٹیلی جنس حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ جاپان کے نسبتاً کمزور جاسوسی قوانین اور اس کی ترقی یافتہ ٹیکنالوجی صنعت نے اسے روس کے لیے اہم بنا دیا۔

رپورٹ کے مطابق یوکرینی حکومت کے اندازوں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ روس کی جانب سے استعمال کیے جانے والے میزائلوں اور ڈرونز میں سے تقریباً دس میں سے نو میں جاپانی ساختہ پرزے شامل ہیں۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں کی گئی۔

رپورٹ میں مغربی انٹیلی جنس اداروں سے وابستہ موجودہ اور سابق اہلکاروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ روسی فوجی انٹیلی جنس کا ایک یونٹ، جسے بیسواں ڈائریکٹوریٹ کہا جاتا ہے، جاپان میں سرگرمیوں میں ملوث رہا۔ اس یونٹ کے اہلکار مبینہ طور پر سفارت کاروں یا کاروباری افراد کے روپ میں رہ کر جنگی ٹیکنالوجی خریدنے یا حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔

جاپان دوسری جنگ عظیم کے بعد اپنی دفاعی پالیسی میں محتاط رویہ رکھتا آیا ہے، لیکن یوکرین پر روسی حملے کے بعد ٹوکیو نے ماسکو کے خلاف مغربی پابندیوں کی حمایت کی اور اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ بھی شروع کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق جدید جنگ میں صرف فوجی طاقت ہی فیصلہ کن نہیں ہوتی بلکہ الیکٹرانک پرزے، مصنوعی ذہانت، مواصلاتی نظام اور صنعتی ٹیکنالوجی بھی انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے بڑی طاقتیں عالمی سطح پر جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کے لیے مقابلہ کر رہی ہیں۔

دوسری جانب امریکی سیاست میں روس کے خلاف مزید پابندیوں کے معاملے پر بھی پیش رفت ہوئی ہے۔ دونوں جماعتوں سے تعلق رکھنے والے امریکی سینیٹرز نے جمعہ کے روز اعلان کیا کہ وہ روسی پابندیوں سے متعلق ایک قانون کے مسودے کی زبان پر وائٹ ہاؤس کے ساتھ اتفاق رائے تک پہنچ گئے ہیں۔ یہ قانون ایک سال سے زائد عرصے سے قانون سازی کے عمل میں رکا ہوا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر روس کے خلاف نئی پابندیاں نافذ ہوتی ہیں تو اس کا مقصد ماسکو کی جنگی صلاحیت کو محدود کرنا اور ان راستوں کو بند کرنا ہوگا جن کے ذریعے روس جدید ٹیکنالوجی یا صنعتی پرزے حاصل کر سکتا ہے۔

یوکرین جنگ نے ایک بار پھر ظاہر کر دیا ہے کہ موجودہ دور کے تنازعات میں عالمی ٹیکنالوجی کی رسد، جاسوسی نیٹ ورک اور اقتصادی پابندیاں بھی میدان جنگ کے ہتھیاروں جتنی اہمیت اختیار کر چکی ہیں

قومی خبریں سے مزید