Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

خلیجِ ہرمز میں آگ بھڑک اٹھی: بحرین پر ڈرون حملے، تیل بردار جہاز نشانہ، امریکہ کا جوابی وار — جنگ بندی خطرے میں

خلیجِ ہرمز میں آگ بھڑک اٹھی: بحرین پر ڈرون حملے، تیل بردار جہاز نشانہ، امریکہ کا جوابی وار — جنگ بندی خطرے میں

ممتاز امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل کا کہنا ہے خلیجِ ہرمز ایک بار پھر بڑے پیمانے پر عسکری کشیدگی کا مرکز بن گئی ہے جہاں بحرین نے ایرانی ڈرون حملوں کا الزام عائد کرتے ہوئے خطے میں خطرے کی نئی لہر کو جنم دیا ہے جبکہ ایک تیل بردار جہاز کے نشانہ بننے کے واقعے نے عالمی توانائی ترسیل کے سب سے اہم راستے کو مزید غیر محفوظ بنا دیا ہے، یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی معاہدے کے باوجود عملی سطح پر اعتماد کی کمی واضح طور پر برقرار ہے اور زمینی حقائق اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ دونوں فریقین کے درمیان بالواسطہ یا بالواسطہ محاذ آرائی کم ہونے کے بجائے پھیل رہی ہے، ایران نے اگرچہ ان حملوں کی براہِ راست ذمہ داری قبول نہیں کی لیکن سرکاری بیانیے میں پاسدارانِ انقلاب کے ذریعے خطے میں امریکی مفادات اور بحری نقل و حمل پر دباؤ بڑھانے کے اشارے دیے گئے ہیں جس سے یہ تاثر مزید گہرا ہوا ہے کہ آبنائے ہرمز میں طاقت کا توازن ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، ادھر امریکی مؤقف کے مطابق تیل بردار جہاز پر حملہ جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی ہے جس کے بعد واشنگٹن نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی ہدایات جاری کی ہیں، یہ پیش رفت نہ صرف خطے کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے بلکہ عالمی توانائی منڈیوں کے لیے بھی ایک غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کی تیل کی ترسیل کا وہ مرکزی راستہ ہے جس کی بندش یا عدم استحکام عالمی معیشت پر فوری اثر ڈال سکتی ہے، تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ بحران محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک کشمکش کا حصہ ہے جس میں ایران اپنی جغرافیائی اہمیت کو بطور دباؤ استعمال کر رہا ہے جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی اس راستے کو کھلا رکھنے کے لیے سخت ترین ردعمل دینے کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں، اسی تناظر میں بحرین پر حملے کی اطلاعات نے خلیجی ممالک کو مزید محتاط کر دیا ہے اور امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں خطے میں سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ عسکری تیاریوں میں بھی اضافہ دیکھا جائے گا

قومی خبریں سے مزید