کیرالہ: بھارتی ریاست کیرالہ کے ضلع پالکڑ میں ایک جم کی جانب سے خود کو “اسلام فرینڈلی” قرار دینے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جس کے بعد جم کے مالک نے اپنی وضاحت پیش کر دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق مذکورہ جم نے اپنی تشہیری مہم میں یہ مؤقف اپنایا تھا کہ وہاں مردوں اور خواتین کے لیے الگ الگ اوقات، علیحدہ تربیت کار (ٹرینرز) اور مخصوص حصے فراہم کیے گئے ہیں، جبکہ ورزش کے دوران موسیقی نہ چلانے کی پالیسی بھی اپنائی گئی ہے۔ اس تشہیر کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بحث شروع ہو گئی، جہاں ایک طبقے نے اس اقدام کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم قرار دیتے ہوئے تنقید کی، جبکہ بعض افراد نے اسے ذاتی یا مذہبی آزادی کے تحت ایک انتخاب قرار دیا۔ شدید ردعمل کے بعد جم کے مالک نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا مقصد کسی کو تقسیم کرنا نہیں تھا بلکہ مخصوص افراد کی ترجیحات اور آرام کو مدنظر رکھتے ہوئے سہولیات فراہم کرنا تھا۔ ان کے مطابق یہ ایک کاروباری ماڈل ہے جس کا مقصد مختلف صارفین کی ضروریات پوری کرنا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق اس معاملے نے آن لائن بحث کو مزید تیز کر دیا ہے، جبکہ بعض حلقے اسے سماجی ہم آہنگی کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت میں حالیہ برسوں کے دوران سوشل میڈیا پر ایسے معاملات تیزی سے وائرل ہوتے ہیں، جہاں کاروباری فیصلے بھی فوری طور پر وسیع سماجی و سیاسی بحث کا حصہ بن جاتے ہیں





