Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پاکستانی ڈاکٹروں کا اجتماع معیشت، میاں عاطف کا انقلابی خطاب سفارت کاری، موسیقی اور پھر رات گئے پھوٹ جانے والی

پاکستانی ڈاکٹروں کا اجتماع: معیشت، میاں عاطف کا انقلابی خطاب، سفارت کاری، موسیقی اور پھر رات گئے پھوٹ جانے والی سیاسی ڈیلوں کی ہانڈی
نیو جرسی کے ایک بڑے ہوٹل کے ہال میں جب ممتاز ماہرِ معاشیات میاں عاطف اسٹیج پر آئے تو ماحول میں غیر معمولی سنجیدگی محسوس کی جا سکتی تھی۔ سامنے امریکہ بھر سے آئے ہوئے پاکستانی نژاد ڈاکٹرز، ہیلتھ کیئر پروفیشنلز، کمیونٹی رہنما اور نوجوان بیٹھے تھے، مگر گفتگو صرف طب یا کمیونٹی خدمات تک محدود نہیں رہی۔ بات پاکستان کی معیشت، مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال، میرٹ، عالمی سیاست اور اوورسیز پاکستانیوں کے کردار تک جا پہنچی۔
امریکن پاکستانی ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی اسپرنگ میٹنگ، جو ابتدا میں پاکستان میں منعقد ہونا تھی مگر ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور فضائی سفر سے متعلق خدشات کے باعث آخری لمحوں میں نیو جرسی منتقل کر دی گئی، مختصر وقت میں ترتیب پانے کے باوجود غیر معمولی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ اگرچہ منتظمین کے مطابق شرکاء کی تعداد وہ نہ ہو سکی جس کی ابتدا میں توقع کی جا رہی تھی، لیکن تنظیم کی مرکزی قیادت اور نیو جرسی چیپٹر نے محدود وقت میں جس انداز سے انتظامات مکمل کیے، اسے شرکاء نے قابلِ ستائش قرار دیا۔
تنظیم کے مرکزی صدر ڈاکٹر بابر راؤ کی قیادت میں ہونے والے اس دو روزہ اجتماع میں امریکہ بھر سے پاکستانی نژاد ڈاکٹرز، ان کے اہلِ خانہ، کمیونٹی شخصیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہوئے۔ نیو جرسی چیپٹر کی صدر ڈاکٹر آمنہ ثاقب اور ان کی ٹیم نے انتظامات میں کلیدی کردار ادا کیا، جبکہ گالا ڈنر کی نظامت ڈاکٹر آمنہ ثاقب اور ان کے شوہر ڈاکٹر ثاقب ضیاء نے مشترکہ طور پر انجام دی۔
مگر اس اجتماع کا سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والا لمحہ وہ تھا جب میاں عاطف نے پاکستان کی معیشت پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کیا، جس کی نظامت کے فرائض اپنا کے سابق سیکریٹری ڈاکٹر ثنا اللہ نے سرانجام دیے۔ میاں عاطف نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک کی اقتصادی بحالی صرف بیرونی قرضوں یا ترسیلاتِ زر سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے میرٹ، پالیسی خودمختاری اور اوورسیز پاکستانیوں کی صلاحیتوں کو حقیقی طور پر استعمال کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں فیصلہ سازی کو سیاسی مفادات سے نکال کر پیشہ ورانہ بنیادوں پر منتقل کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق کئی مرتبہ تجربہ کار اور ذہین ماہرینِ معاشیات کو اہم ذمہ داریاں دی گئیں، مگر انہیں اپنی پالیسیوں پر مکمل عملدرآمد کا اختیار نہیں دیا گیا، جس کے باعث اصلاحات ادھوری رہ گئیں۔
میرٹ پر گفتگو کرتے ہوئے میاں عاطف نے کہا کہ جب تک اہم شعبوں میں تقرریاں صلاحیت اور اہلیت کی بنیاد پر نہیں ہوں گی اور پالیسی سازوں کو آزادانہ طور پر اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد کا اختیار نہیں دیا جائے گا، اس وقت تک پاکستان کی معیشت مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکتی۔
اسی تناظر میں انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے انتہائی اہم اور حساس شعبے اطلاعاتی ٹیکنالوجی میں بھی ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جن پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے صاحبزادے کو اس شعبے میں ایک اہم ذمہ داری دے دی گئی، حالانکہ ان کے بقول اس میدان میں ان کا کوئی نمایاں پیشہ ورانہ پس منظر یا تجربہ سامنے نہیں آتا۔
میاں عاطف نے کہا کہ اس نوعیت کی تقرریاں معیشت کی بحالی میں مدد دینے کے بجائے مزید سوالات پیدا کرتی ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ امریکن پاکستانی ڈاکٹرز یا امریکن پاکستانی پاکستان کی معیشت کی بحالی میں کیا کردار ادا کرسکتے ہیں، تو جواباً انہوں نے کہا کہ امریکن اور یورپین پاکستانی اپنے ٹیلنٹ اور تجربے سے ایسے ادارے قائم کرسکتے ہیں جو بین الاقوامی معیار کے ہوں، اور ان کی طرف سے اس سے بڑھ کر دوسری کوئی سرمایہ کاری ہو ہی نہیں سکتی۔
اپنے خطاب کے دوران انہوں نے موجودہ علاقائی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی نے پورے مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کی اہمیت کو دوبارہ بڑھا دیا ہے، اور اگر اسلام آباد بروقت اور دانشمندانہ فیصلے کرے تو یہ صورتحال معیشت کے لیے ایک نئے موقع میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کو بھی خطے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی ضرورت کی علامت قرار دیا۔
یاد رہے ماضی میں سابق وزیر اعظم عمران خان میاں عاطف کو پاکستان میں معیشت کی بحالی کے پس منظر میں ایک اہم ذمہ داری سونپنا چاہتے تھے، تاہم ملک کے انتہا پسند مذہبی حلقوں نے ان کی احمدی شناخت کو بنیاد بنا کر شدید مہم چلائی، جس کے بعد یہ معاملہ آگے نہ بڑھ سکا۔
میاں عاطف نے زور دے کر کہا کہ پاکستان کی معیشت صرف اوورسیز پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر اور تقریباً تیس ارب ڈالر کی برآمدات کے ذریعے مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکتی۔ ان کے مطابق معیشت کو حقیقی معنوں میں مستحکم کرنے کے لیے بڑے اور بنیادی فیصلوں کی ضرورت ہے، اور جب تک میرٹ، پالیسی خودمختاری اور ادارہ جاتی اصلاحات کو ترجیح نہیں دی جائے گی، معاشی بحالی ایک خواب ہی رہے گی۔
اسپرنگ میٹنگ میں طبی تعلیم، جدید طب، کمیونٹی ہیلتھ، پاکستان کی معیشت اور عالمی سیاسی صورتحال پر مختلف نشستیں ہوئیں۔ امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے اپنے خطاب میں پاکستانی کمیونٹی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں نے ملک کے مثبت تشخص کو مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے خطے کی موجودہ صورتحال میں پاکستان کے سفارتی کردار کو اہم قرار دیا۔
گالا ڈنر اور شام کی تقریبات میں موسیقی اور قوالی نے ماحول کو مکمل طور پر بدل دیا۔ معروف گلوکار کومل رضوی نے اپنے گیتوں سے شرکاء کو محظوظ کیا جبکہ عمران عزیز کی قوالی نے محفل کو وجد میں بدل دیا۔ سنجیدہ پیشہ ورانہ زندگی گزارنے والے ڈاکٹرز، خاندانوں اور کمیونٹی رہنماؤں کو اس دوران موسیقی پر جھومتے، گنگناتے اور بے تکلف انداز میں ایک دوسرے سے ملتے دیکھا جا سکتا تھا۔
مگر ان تمام تقاریب، سیمینارز، عشائیوں اور ثقافتی رنگوں کے باوجود اس اجتماع کی اصل “ٹاک آف دی ٹاؤن” کچھ اور تھی۔
ہوٹل کی راہداریوں، لابیوں، نجی نشستوں اور رات گئے ہونے والی ملاقاتوں میں سب سے زیادہ گفتگو تنظیم کے دو ہزار ستائیس کے انتخابات کے گرد گھومتی رہی۔ مختلف امیدوار اپنے اپنے گروپوں کے ساتھ سرگرم دکھائی دیے۔ کہیں خاموش ملاقاتیں ہو رہی تھیں، کہیں ممکنہ اتحادوں پر بات ہو رہی تھی، اور کہیں ایک دوسرے کے خلاف حکمتِ عملی تیار کی جا رہی تھی۔
ذرائع کے مطابق جمعہ کی رات کچھ اہم گروپوں کے درمیان بڑی سیاسی ڈیلیں طے پاتی دکھائی دیں۔ بعض امیدواروں نے مشترکہ پینلز، حمایت اور عہدوں کی تقسیم پر ابتدائی اتفاق بھی کر لیا تھا، مگر ہفتہ کی رات تک صورتحال مکمل طور پر بدل چکی تھی۔
کہا جا رہا ہے کہ جن لوگوں نے ایک دوسرے کے ساتھ سیاسی سمجھوتے کیے، وہ خود ایک دوسرے پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جو اتحاد بڑی کامیابی سمجھا جا رہا تھا، وہ اسی ہوٹل کی راہداریوں میں ٹوٹ گیا جہاں وہ بنا تھا۔
اور پھر اختتام پر لوگ یہی کہتے دکھائی دیے کہ اس بار “ہانڈی چوراہے میں ہی پھوٹ گئی” — جتنی بھی ڈیلیں ہوئیں، وہ اسپرنگ میٹنگ میں بنیں بھی اور وہیں ختم بھی ہو گئیں۔

قومی خبریں سے مزید