لڑائ شروع : ڈیموکریٹس کی تاریخی انتخابی کامیابی کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ کا اعلان، ملک بدریوں کا سلسلہ جاری رہے گا
ڈیموکریٹک پارٹی کی 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں کامیابی کے بعد بھی ٹرمپ انتظامیہ نے امیگریشن پالیسی میں کسی نرمی کا عندیہ نہیں دیا،ہوم لینڈ سکیورٹی کے وزیر مارک وین مولن نے بدھ کو سوشل میڈیا پر واضح اعلان کیا کہ غیر قانونی تارکین وطن کی ملک بدری کا سلسلہ جاری رہے گا
ڈیموکریٹس نے انتخابی مہم کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسی اور امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی کارروائیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا،بعض امیدواروں نے تو ICE کے ادارے کو مکمل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ بھی انتخابی نعرے کے طور پر استعمال کیا
مارک وین مولن نے ان مطالبات اور ادارے پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کو بھی نشانہ بنایا، جنہوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ICE اہلکار ووٹروں کو انتخابی مراکز پر ہراساں کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں،مولن نے منگل کو پولنگ ختم ہونے سے قبل فاکس نیوز کے میزبان ول کین سے گفتگو میں کہا تھا کہ ICE اہلکار انتخابی مراکز کے قریب موجود نہیں ہوں گے، الا یہ کہ وہاں کسی قسم کا خطرہ درپیش ہو،انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں اپنی توثیق کی سماعت کے دوران بھی وہ یہ بات واضح کرچکے ہیں
دوسری جانب ڈیموکریٹس نے کانگریس میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد ICE پر نگرانی سخت کرنے اور اس کے اختیارات محدود کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے،اس مقصد کے لیے وہ ادارے کی آئندہ مالی اعانت روکنے یا اس میں کمی کرنے کے ساتھ ساتھ کانگریسی نگرانی کے اختیارات استعمال کرسکتے ہیں،تاہم انہیں ریپبلکن ارکان کی مخالفت کا سامنا ہوگا، جبکہ قانون سازی کے ذریعے امیگریشن پالیسی تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ ویٹو کرسکتے ہیں
یوں انتخابی نتائج نے کانگریس میں طاقت کا توازن تو بدل دیا ہے، لیکن ٹرمپ انتظامیہ نے واضح کردیا ہے کہ امیگریشن کے خلاف اس کی سخت پالیسی فوری طور پر تبدیل ہونے والی نہیں





