لاس اینجلس کی سیاست میں زلزلہ، نیتھیا رامن کی کامیابی نے ڈیموکریٹک اسٹیبلشمنٹ کو ہلا کر رکھ دیا
لاس اینجلس میں میئر کے انتخاب میں نیتھیا رامن کی موجودہ میئر کیرن باس پر بڑھتی ہوئی برتری نے امریکہ کے دوسرے بڑے شہر کی سیاسی طاقت کا توازن بدل دیا ہے،انتخابی نتائج مکمل طور پر سامنے آنے سے قبل ہی رامن کی کامیابی کے امکانات نے شہر کی روایتی سیاسی قیادت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے،اگر ان کی برتری برقرار رہتی ہے، جس کی توقع اب رامن اور کیرن باس دونوں کے حامی بھی کر رہے ہیں، تو یہ کامیابی امریکہ میں ابھرتی ہوئی بائیں بازو کی سیاست کے لیے ایک اور بڑی پیش رفت ہوگی
پولیٹیکو کی رپورٹ کے مطابق، لاس اینجلس کی سیاسی اور بلدیاتی اشرافیہ کی بڑی تعداد نے موجودہ میئر کیرن باس کی حمایت کی تھی، حالانکہ وہ ووٹروں میں اپنی مقبولیت کھو چکی تھیں،شہر کے متعدد سٹی کونسل ارکان بھی باس کے ساتھ کھڑے تھے، لیکن انتخابی نتائج نے ظاہر کیا کہ ان کے اپنے حلقوں کے ووٹروں نے لازماً اپنی منتخب قیادت کی سیاسی ترجیحات کی پیروی نہیں کی
ہوٹل اور مہمان نوازی کے شعبے کی مزدور یونین UNITE HERE Local 11 کے شریک صدر کرٹ پیٹرسن نے اس انتخابی تبدیلی کو زلزلے، طوفان اور سیاسی ڈھانچے کی ازسرنو تشکیل سے تعبیر کیا ہے ،ان کے مطابق لاس اینجلس کا سیاسی طبقہ نیتھیا رامن کی انتخابی مہم سے دور رہا کیونکہ اس کی اکثریت موجودہ میئر کیرن باس کے ساتھ کھڑی تھی، لیکن ووٹروں نے اپنے نمائندوں کے برعکس فیصلہ کیا
یہ انتخاب محض میئر کی تبدیلی کا معاملہ نہیں بلکہ لاس اینجلس میں روایتی سیاسی قیادت اور ترقی پسند سیاست کے درمیان طاقت کی نئی کشمکش کی علامت بن کر سامنے آیا ہے
رامن 2020 سے ڈی ایس اے کی رکن ہیں۔
ستمبر 2026 میں لاس اینجلس کی ڈی ایس اے شاخ نے ان کی میئر کی انتخابی مہم کی باقاعدہ حمایت کی
2 نومبر کو ڈی ایس اے کی قومی کمیٹی نے 14 کے مقابلے میں 13 ووٹوں سے ان کی حمایت واپس لینے کی تجویز مسترد کردی
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، وہ منتخب ہونے کی صورت میں لاس اینجلس کی پہلی ڈیموکریٹک سوشلسٹ میئر ہوں گی
لہٰذا انہیں محض ترقی پسند ڈیموکریٹ کہنا درست تصویر پیش نہیں کرے گا،وہ باقاعدہ ڈیموکریٹک سوشلسٹ ہیں،البتہ بعض پالیسی معاملات پر ان کے ڈی ایس اے سے اختلافات بھی رہے ہیں، نیویارک کے مئیر زوہران ممدانی کے بعد رامن دوسری ڈیموکریٹ سوشلسٹ ہونگی جو لاس اینجلس جیسے شہر کی مئیر منتخب ہونگی، اسطرح بیک وقت امریکہ کے دو بڑے شہروں کے مئیر سوشلسٹ ڈیموکریٹ ہونگے جو ڈیموریٹ پارٹی کے روایتی رہنماؤں کے لیے کسی بڑے سیاسی سونامی سے کم نہیں





