Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اہم خبریں

اسرائیل کے متنازع انتخابات کے بعد صدر کا سیاسی جماعتوں کو سمجھوتے کا مشورہ، عرب جماعتوں کی کامیابی نے اقتدار کا کھیل پیچیدہ بنا دیا

اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ نے حالیہ متنازع انتخابات کے بعد نئی حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی جماعتوں سے مذاکرات شروع کر دیے ہیں اور تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اختلافات کم کرکے سمجھوتے کا راستہ اختیار کریں ان کا کہنا ہے کہ 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات میں کسی بھی سیاسی اتحاد کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی، اس لیے تمام جماعتوں کو اپنی انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدوں میں لچک پیدا کرنا ہوگی تاکہ ملک کو ایک اور انتخابات کی طرف جانے سے بچایا جا سکے
یہ انتخابات 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں کے بعد اسرائیل میں ہونے والے پہلے عام انتخابات تھے ان کے نتائج نے ملک کی سیاست میں گہری تقسیم کو نمایاں کر دیا ہے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا اتحاد بھی حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں کر سکا، جبکہ ان کے مخالف سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں قائم سیاسی دھڑے کو بھی واضح برتری نہیں ملی
اسرائیل کی 120 نشستوں پر مشتمل پارلیمنٹ میں حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 نشستیں درکار ہیں نیتن یاہو کے اتحاد کو 53 نشستیں حاصل ہوئیں جبکہ ان کے مخالف یہودی جماعتوں کے اتحاد کو 48 نشستیں ملیں۔ عرب جماعتوں کی کامیابی نے حکومت سازی کے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، کیونکہ ان کی حمایت کے بغیر نیتن یاہو مخالف جماعتوں کے لیے اکثریت حاصل کرنا مشکل ہے
اس انتخاب میں اسرائیل کی عرب اقلیت سے تعلق رکھنے والی جماعتوں نے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے عرب شہری اسرائیل کی مجموعی آبادی کا تقریباً 20 فیصد ہیں اور ان میں بڑی تعداد ان فلسطینی خاندانوں کی اولاد پر مشتمل ہے جو 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد بھی اپنے علاقوں میں رہ گئے تھے طویل عرصے سے اسرائیلی سیاست میں ان جماعتوں کا کردار محدود رہا ہے، لیکن حالیہ انتخابی نتائج نے انہیں حکومت سازی میں اہم حیثیت دے دی ہے
عرب جماعت یونائیٹڈ عرب لسٹ، جسے عبرانی زبان میں رام کے نام سے جانا جاتا ہے، نے اعلان کیا ہے کہ وہ گادی آئزن کوٹ کو وزیراعظم بنانے کی سفارش کرے گی آئزن کوٹ سابق فوجی سربراہ ہیں اور انہوں نے نیتن یاہو کے طویل سیاسی دور کو ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ اگر انہیں حکومت بنانے کا موقع ملا تو وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر مشرق وسطیٰ میں استحکام اور امریکا اسرائیل تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کریں گے
صدر اسحاق ہرزوگ نے عرب اقلیت کے خلاف حالیہ انتخابی مہم میں استعمال ہونے والی نسل پرستانہ زبان کی بھی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی کسی بھی برادری کے خلاف نفرت انگیز اور توہین آمیز زبان کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیتن یاہو اور ان کے اتحادی عرب جماعتوں کی کامیابی کو مشکوک بنانے کی کوشش کر رہے ہیں
نیتن یاہو نے انتخابی دن بعض افراد کی گرفتاریوں اور ان کے پاس سے نقد رقم برآمد ہونے کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے عرب جماعتوں کے رہنماؤں پر قطر سے پیسے لینے کے الزامات بھی لگائے ہیں تاہم اسرائیل کے مرکزی انتخابی کمیشن نے 9,069 پولنگ اسٹیشنوں کے جائزے کے بعد کہا ہے کہ اسے ایسی کوئی شہادت نہیں ملی جس سے انتخابی نتائج کی شفافیت پر سوال اٹھایا جا سکے کمیشن نے نتائج کی منظوری 15 ارکان کی حمایت سے دی، 2 نے مخالفت کی جبکہ 14 ارکان غیر حاضر یا غیر جانب دار رہے
اسرائیل کے انتہائی قوم پرست قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کیا اور عرب جماعتوں کے رہنماؤں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا دوسری جانب عرب رکن پارلیمنٹ ایمن عودہ کے خلاف مبینہ طور پر غیر ملکی رقم لینے کے الزامات کی تحقیقات کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ ان کی جماعت جوائنٹ لسٹ نے ان الزامات کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے
گادی آئزن کوٹ نے نیتن یاہو پر الزام لگایا ہے کہ وہ جمہوری نظام کو کمزور کرنے اور منتخب نمائندوں کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو ایسے سیاسی راستے پر نہیں جانے دیا جائے گا جہاں جمہوری اقدار اور شہریوں کے انتخاب کا احترام ختم ہو جائے۔
اسرائیل کی داخلی سیاست پر امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج کا اثر بھی نمایاں ہو رہا ہے امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی بڑی کامیابی کے بعد اسرائیلی اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کی حکومت کے لیے واشنگٹن کی حمایت مستقبل میں کمزور ہو سکتی ہے ڈیموکریٹس غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں سے ہونے والی تباہی پر پہلے ہی سخت تنقید کر رہے ہیں اور انہوں نے اسرائیل کے حوالے سے زیادہ سخت پالیسی اپنانے کا عندیہ دیا ہے
اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ نیتن یاہو کے ساتھ اتفاق کے بعد اسرائیل کو دی جانے والی تقریباً 4 ارب ڈالر سالانہ فوجی امداد رواں سال کے اختتام تک ختم کرنے پر متفق ہو گئے ہیں اس اعلان نے اسرائیل کے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے
اسرائیلی اپوزیشن کے رہنما یائر گولان نے خبردار کیا ہے کہ نیتن یاہو اور اتمار بن گویر کی حکومت برقرار رہی تو اسرائیل کو عالمی پابندیوں، بین الاقوامی تنہائی اور اپنے سب سے اہم اتحادی امریکا کے ساتھ اختلافات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے
نیتن یاہو نے تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل ایک وسیع قومی حکومت بنانے کی پیشکش کی ہے، تاہم ان کی خواہش ہے کہ اس حکومت کی سربراہی وہ خود کریں انہیں بدعنوانی کے مقدمات کا بھی سامنا ہے اور وزارت عظمیٰ سے محرومی کی صورت میں ان مقدمات کی کارروائی ان کے سیاسی مستقبل کے لیے مزید مشکل پیدا کر سکتی ہے
صدر اسحاق ہرزوگ پہلے 2 دن تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کریں گے اس کے بعد کسی ایک امیدوار کو حکومت بنانے کے لیے 28 دن دیے جائیں گے، جبکہ ضرورت پڑنے پر مزید 14 دن کی توسیع بھی ممکن ہوگی اگر کوئی امیدوار مطلوبہ اکثریت حاصل نہ کر سکا تو اسرائیل کو دوبارہ انتخابات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے
اسرائیل 2019 سے 2022 کے دوران سیاسی تعطل کے باعث 5 انتخابات کروا چکا ہے موجودہ نتائج نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ نیتن یاہو کی سیاست کے خلاف عوامی حمایت بڑھنے کے باوجود ان کے مخالفین ابھی تک ایک مضبوط اور متفقہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں عرب جماعتوں کی بڑھتی ہوئی پارلیمانی طاقت اب اسرائیل کی آئندہ حکومت کے فیصلے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے

قومی خبریں سے مزید