Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اہم خبریں

ایران میں کمیونزم کا خوف، امریکی خفیہ کارروائیاں اور ہزاروں افراد کی گرفتاریوں کی تاریخی کہانی

ایران کی موجودہ سیاسی صورتحال اور امریکا کے ساتھ اس کے طویل تنازعے کو سمجھنے کے لیے 1980 کی دہائی کی تاریخ پر نظر ڈالنا ضروری ہے ایران میں کمیونزم کے پھیلاؤ کا خوف ایک ایسا سیاسی ہتھیار بنا جسے امریکا اور اس کے مغربی اتحادیوں نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کیا اس عمل کے نتیجے میں ایران کے اندر ہزاروں افراد گرفتار ہوئے، تشدد کا نشانہ بنے اور متعدد کو پھانسی دی گئی
اس تاریخی معاملے کا تعلق ایران کی کمیونسٹ جماعت تودہ سے ہے، جو 1979 کے انقلاب سے پہلے شاہ محمد رضا پہلوی کے خلاف سرگرم تھی تودہ نے شاہ کے خلاف عوامی تحریک میں حصہ لیا اور انقلاب کے بعد ابتدائی عرصے میں اسلامی جمہوری نظام کے اندر ایک اہم اپوزیشن قوت کے طور پر سامنے آئی۔ تاہم مذہبی قیادت اور کمیونسٹ جماعت کے درمیان یہ سیاسی قربت زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی
ایران میں کمیونزم کے خلاف امریکی پالیسی کی جڑیں 1950 کی دہائی تک جاتی ہیں اس وقت ایران کے منتخب وزیراعظم محمد مصدق نے ملک کے تیل کے وسائل کو قومی ملکیت میں لینے کا فیصلہ کیا تھا امریکا اور برطانیہ کو خدشہ تھا کہ ایران سوویت یونین کے قریب جا سکتا ہے اسی خدشے کو بنیاد بنا کر 1953 میں سی آئی اے اور برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی 6 کی مدد سے مصدق کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور شاہ کی بادشاہت دوبارہ مضبوط کر دی گئی
اس کارروائی کے بعد ایران میں شاہ کی خفیہ پولیس ساواک نے مخالفین کے خلاف سخت کارروائیاں کیں تودہ جماعت کو بھی شدید نقصان پہنچا، اس کے رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اور بڑی تعداد میں لوگ ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے اس کے باوجود جماعت کے بعض خفیہ کارکن ایران کے اندر موجود رہے
1979 کے انقلاب کے بعد تودہ جماعت دوبارہ سرگرم ہوئی اس نے آیت اللہ خمینی کی قیادت میں قائم ہونے والے نئے نظام کو ابتدا میں عوامی انقلاب کا نتیجہ تسلیم کیا، لیکن 1982 اور 1983 میں حالات تیزی سے بدل گئے امریکا اور برطانیہ کو خدشہ تھا کہ سوویت یونین تودہ جماعت کو اسلحہ اور مالی وسائل فراہم کرکے ایران میں حکومت کا تختہ الٹنے کی تیاری کر رہا ہے اور اس کے نتیجے میں سوویت یونین ایران میں مداخلت کر سکتا ہے
اس دوران ایک اہم واقعہ سوویت خفیہ ادارے کے افسر ولادیمیر کوزچکن کی ایران سے برطانیہ فرار ہونے کی صورت میں پیش آیا کوزچکن تہران میں سوویت یونین کے خفیہ رابطوں اور تودہ جماعت سے تعلقات کا اہم کردار تھا۔ اس نے برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی 6 سے رابطہ کرکے ایرانی رابطوں، جاسوسی نیٹ ورک اور ماسکو سے ہونے والی مواصلات کی تفصیلات فراہم کیں
برطانوی خفیہ ادارے نے یہ معلومات امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے تک پہنچائیں اس کے بعد امریکی حکام نے ان معلومات کو ایران کی انٹیلی جنس کے ساتھ بھی شیئر کرنے پر اصرار کیا اس سلسلے میں پاکستان کا کردار بھی سامنے آیا۔ ان معلومات کی ایرانی حکام تک منتقلی کے لیے اسلام آباد کو مقام بنایا گیا، جہاں اس وقت کے آئی ایس آئی سربراہ جنرل عبدالرحمان اختر کے ذریعے یہ رابطہ ممکن ہوا
ایرانی قیادت کے بعض اہم رہنماؤں نے ان اطلاعات کی بنیاد پر فوری کارروائی کے بارے میں تحفظات ظاہر کیے تھے۔ آیت اللہ خمینی، پارلیمنٹ کے اسپیکر اکبر ہاشمی رفسنجانی اور وزیراعظم میر حسین موسوی کو اس بات پر شبہ تھا کہ کمیونسٹ بغاوت کا خطرہ اتنا فوری اور سنگین ہے کہ بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن ضروری ہو
اس کے برعکس اس وقت کے صدر علی خامنہ ای اور پاسداران انقلاب کے سربراہ محسن رضائی سخت کارروائی کے حامی تھے۔ بالآخر تودہ جماعت کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع ہوا ہزاروں افراد گرفتار کیے گئے، قید کے دوران تشدد کیا گیا اور متعدد افراد کو پھانسی دی گئی کچھ گرفتار افراد سے سرکاری ٹیلی وژن پر اعترافی بیانات بھی نشر کرائے گئے
اس تاریخی واقعے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ایران میں کمیونسٹ بغاوت کے خطرے کے بارے میں امریکی اور برطانوی خفیہ اداروں کی فراہم کردہ معلومات کو فیصلہ کن اہمیت دی گئی، حالانکہ ایرانی قیادت کے اندر بھی ان اطلاعات کی درستگی اور خطرے کی شدت پر اختلاف موجود تھا
اس معاملے کو آج کے امریکی ایران تعلقات کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے امریکا نے سرد جنگ کے زمانے میں کمیونزم کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں کئی خفیہ کارروائیوں اور سیاسی مداخلتوں کی حمایت کی افغانستان میں سوویت فوجوں کے خلاف جنگ بھی اسی پالیسی کا حصہ تھی، جس میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا تاہم ان کارروائیوں کے طویل مدتی نتائج نے بعد میں خود امریکا کے لیے بھی نئے مسائل پیدا کیے
اس تاریخی تجزیے کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ عالمی طاقتیں اکثر اپنے تزویراتی مفادات کے لیے دوسرے ممالک کے اندرونی سیاسی اختلافات اور نظریاتی خوف کو استعمال کرتی ہیں لیکن ایسی مداخلتوں کے نتائج ہمیشہ ان کے منصوبہ سازوں کے قابو میں نہیں رہتے۔ ایران کی 1980 کی دہائی کی تاریخ اس کی ایک نمایاں مثال ہے

قومی خبریں سے مزید