مائیکروسافٹ کا 60,000 ملازمین کو رضاکارانہ طور پر ملازمت چھوڑنے کی پیشکش، مصنوعی ذہانت پر بھاری سرمایہ کاری
ریڈمنڈ: دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ نے اپنے تقریباً 60,000 ملازمین کو رضاکارانہ طور پر ملازمت چھوڑنے کے لیے مالی مراعات اور دیگر سہولتوں پر مشتمل پیشکش کی ہے کمپنی کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہے اور اپنے اخراجات اور افرادی قوت کو کاروباری ضروریات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہی ہے
مائیکروسافٹ کی چیف پیپل آفیسر ایمی کولمین کے مطابق یہ پیشکش امریکہ، کینیڈا، برطانیہ اور بھارت میں منتخب شعبوں کے اہل ملازمین کے لیے متعارف کرائی گئی ہے کمپنی کے مطابق یہ پروگرام رضاکارانہ ہے اور اس کے تحت ملازمین مالی معاونت اور مستقبل کے کیریئر کی منصوبہ بندی میں مدد حاصل کرتے ہوئے ملازمت چھوڑنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں تمام شعبوں کے ملازمین اس پروگرام میں شامل نہیں ہیں اور اہلیت کا انحصار متعلقہ شعبے کی ضروریات پر ہو گا
مائیکروسافٹ نے جون 2026 کے اختتام پر تقریباً 223,000 کل وقتی ملازمین کی تعداد رپورٹ کی تھی اس طرح 60,000 ملازمین اس پیشکش کے اہل ہوں تو یہ کمپنی کی عالمی افرادی قوت کے تقریباً 27 فیصد کے برابر بنتے ہیں تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام 60,000 ملازمین ملازمت چھوڑ دیں گے، کیونکہ فیصلہ ہر اہل ملازم نے اپنی مرضی سے کرنا ہے
کمپنی کی جانب سے اس سال ملازمین کی تعداد کم کرنے کی یہ دوسری بڑی رضاکارانہ اسکیم ہے اس سے قبل بھی مائیکروسافٹ نے امریکہ میں ملازمین کو رضاکارانہ ریٹائرمنٹ کی پیشکش کی تھی اس کے علاوہ جولائی میں کمپنی نے تقریباً 4,800 ملازمتیں ختم کرنے کا اعلان کیا تھا، جن میں گیمنگ کاروبار، خصوصاً ایکس باکس سے وابستہ ملازمتیں بھی شامل تھیں
مائیکروسافٹ کا تازہ اقدام ٹیکنالوجی کی عالمی صنعت میں جاری تبدیلیوں کی عکاسی کرتا ہے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کے نظام تیار کرنے، ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے، جدید چپس خریدنے اور کمپیوٹنگ کی صلاحیت بڑھانے پر بھاری رقوم خرچ کر رہی ہیں ان منصوبوں کے لیے بجلی، کمپیوٹر پروسیسرز، میموری چپس اور دیگر آلات کی طلب میں اضافہ ہوا ہے، جس سے ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے کی لاگت بھی بڑھ رہی ہے
مائیکروسافٹ کئی برس سے مصنوعی ذہانت کو اپنی مصنوعات کا اہم حصہ بنانے میں مصروف ہے کمپنی نے اپنے کوپائلٹ نامی مصنوعی ذہانت کے معاون کو ونڈوز کے نظام اور ذاتی کمپیوٹروں کے ساتھ منسلک کیا ہے اس کا مقصد صارفین کو تحریر، معلومات کی تلاش، دفتری کاموں اور دیگر سرگرمیوں میں مصنوعی ذہانت کی مدد فراہم کرنا ہے کمپنی کو اس شعبے میں بڑے حریفوں کے ساتھ مقابلے کا سامنا بھی ہے
مائیکروسافٹ کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت میں ہونے والی بھاری سرمایہ کاری سے آمدنی اور منافع میں کس حد تک اضافہ ہوتا ہے ڈیٹا سینٹرز اور کمپیوٹنگ کے بنیادی ڈھانچے پر اخراجات بڑھنے کے باعث سرمایہ کار بھی یہ دیکھ رہے ہیں کہ کمپنی ان سرمایہ کاریوں سے کتنی مالی واپسی حاصل کرتی ہے ملازمین کو رضاکارانہ طور پر ملازمت چھوڑنے کی پیشکش اسی وسیع کاروباری تبدیلی کے تناظر میں سامنے آئی ہے
تاہم کمپنی نے یہ نہیں کہا کہ تازہ رضاکارانہ اخراج کی پیشکش صرف مصنوعی ذہانت کی وجہ سے کی جا رہی ہے مائیکروسافٹ کے مطابق مختلف شعبوں کی ضروریات بدل رہی ہیں اور کمپنی اپنے کام کرنے کے طریقوں اور افرادی قوت کو ان تبدیلیوں کے مطابق ڈھالنا چاہتی ہے
اس پیشکش کے اثرات کا اندازہ اس وقت ہو گا جب معلوم ہو گا کہ کتنے ملازمین اسے قبول کرتے ہیں اور کمپنی کی افرادی قوت میں عملی طور پر کتنی کمی آتی ہے فی الحال یہ ایک رضاکارانہ پروگرام ہے، جسے کمپنی اپنے کاروبار میں تبدیلی اور ملازمین کو ملازمت چھوڑنے کا متبادل فراہم کرنے کی کوشش قرار دے رہی ہے





