Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

مکہ دفاعی معاہدے کے اتحادی ایران سے مذاکرات کے لیے تہران پہنچ گئے، آبنائے ہرمز کھلوانے اور حوثی حملے روکنے پر بات چیت

مکہ دفاعی معاہدے کے اتحادی ایران سے مذاکرات کے لیے تہران پہنچ گئے، آبنائے ہرمز کھلوانے اور حوثی حملے روکنے پر بات چیت

اسلام آباد: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام نے علاقائی کشیدگی کم کرنے اور مشرق وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے تہران میں ہونے والی اہم ملاقات میں پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیہ کے انٹیلی جنس سربراہ ابراہیم قالن نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں فریقین نے علاقائی امن و سلامتی کے معاملات پر بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی مضبوط بنانے کے لیے ہونے والی کوششوں کی حمایت کرتا ہے ان کے مطابق خطے کے ممالک اپنے وسائل اور صلاحیتوں کو مشترکہ طور پر استعمال کرکے انصاف، ترقی اور استحکام کی مثال قائم کر سکتے ہیں
ملاقات میں ایران کی جانب سے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی سمیت اعلیٰ حکام شریک ہوئے ابتدائی ملاقات میں چاروں علاقائی ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے اور امن و سلامتی سے متعلق مسائل پر مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا
یہ ملاقات فیلڈ مارشل عاصم منیر کے گزشتہ ہفتے دورۂ تہران کے بعد ہوئی، جہاں انہوں نے اس اجلاس کی تجویز پیش کی تھی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے سے وابستہ ممالک کے نمائندوں اور ایران کے درمیان یہ رابطہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ علاقائی تنازعات کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اس دورے کا مقصد کشیدگی کم کرنے، مکالمے کو فروغ دینے اور سفارتی حل کی حمایت کرنے کی کوششوں کو آگے بڑھانا تھا سعودی حکام نے پاکستان اور قطر کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کو بھی اس اقدام کا اہم مقصد قرار دیا اس سے قبل قطری حکام کا ایک وفد بھی تہران کا دورہ کر چکا تھا، جس سے مختلف سفارتی کوششوں کے درمیان رابطے کا امکان ظاہر ہوتا ہے
ان مذاکرات کے پس منظر میں یمن کی حوثی تحریک، سعودی عرب کی سلامتی، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی ممکنہ فوجی کارروائیوں سے متعلق خدشات شامل ہیں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث ان ممالک کو تشویش ہے کہ اگر تنازعات مزید پھیلے تو اس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ کی سلامتی اور عالمی تجارت پر مرتب ہو سکتے ہیں
میڈیا رپورٹس کے مطابق مذاکرات میں علاقائی عدم جارحیت کے ممکنہ معاہدے، امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی، حوثی حملوں کو روکنے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایرانی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی جیسے معاملات بھی زیر بحث آئے۔ فلسطین اور لبنان کی صورت حال اور امریکہ و اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے ممکنہ نتائج پر بھی بات ہونے کی اطلاعات ہیں
تاہم تقریباً 2 گھنٹے جاری رہنے والی اس ملاقات کے بعد ان معاملات پر کسی حتمی معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا ایرانی عہدیدار محسن رضائی نے بعد ازاں کہا کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ہونے والی بات چیت سے خطے میں ایک نیا اور مثبت ماحول پیدا ہوا ہے
پاکستان کے لیے یہ سفارتی کوشش خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اسلام آباد سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات برقرار رکھتے ہوئے پڑوسی ملک ایران کے ساتھ رابطے بھی قائم رکھنا چاہتا ہے پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان رابطوں اور مذاکرات میں سہولت کاری کی کوششیں بھی کرتا رہا ہے اگر خطے میں دوبارہ فوجی کشیدگی بڑھتی ہے تو ان سفارتی کوششوں کو جاری رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے
سعودی عرب کو اپنی سرزمین اور اہم تنصیبات کو حوثی حملوں اور امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع کے ممکنہ اثرات سے محفوظ رکھنے کا چیلنج درپیش ہے تہران میں مذاکرات میں سعودی عرب کی شرکت ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھانے کے باوجود ریاض ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں کو بھی اہمیت دے رہا ہے
ان مذاکرات کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ متعلقہ ممالک اختلافات کو کم کرنے، بحری راستوں کی سلامتی یقینی بنانے اور فوجی کارروائیوں کے خطرات محدود کرنے کے لیے کس حد تک عملی اقدامات کرتے ہیں فی الحال بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ہے، لیکن کسی وسیع علاقائی معاہدے یا کشیدگی کے خاتمے کی حتمی ضمانت سامنے نہیں آئی

قومی خبریں سے مزید