Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

لاس اینجلس :میئر کی امیدوار نیتھیا رامن خود کو سرمایہ دار اور جمہوری سوشلسٹ دونوں قرار دینے لگیں، انتخاب سے قبل نظریاتی بحث تیز

لاس اینجلس :میئر کی امیدوار نیتھیا رامن خود کو سرمایہ دار اور جمہوری سوشلسٹ دونوں قرار دینے لگیں، انتخاب سے قبل نظریاتی بحث تیز
لاس اینجلس میں میئر کے انتخاب سے چند روز قبل ڈیموکریٹک امیدوار نیتھیا رامن کے ایک بیان نے ان کے سیاسی نظریات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے،شہر کی کونسل کی رکن اور ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکا (DSA) کی رکن رامن نے جمعے کو ایک انٹرویو میں خود کو بیک وقت ’’سرمایہ دار‘‘ اور ’’جمہوری سوشلسٹ‘‘ قرار دیا،ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب تنظیم کے اندر ان کی انتخابی حمایت برقرار رکھنے کے معاملے پر اختلافات کی اطلاعات ہیں اور ان کی توثیق واپس لینے کے امکان پر غور کیا جا رہا ہے
سی این این کے پروگرام میں صحافی الیکس مائیکلسن سے گفتگو کرتے ہوئے رامن نے سرمایہ داری اور سوشلسٹ سیاست سے متعلق سوالات کا جواب دیا،انہوں نے کہا، ’’میں سرمایہ دار بھی ہوں اور جمہوری سوشلسٹ بھی” ان کے مطابق، وہ چاہتی ہیں کہ شہر کا نظام مؤثر انداز میں کام کرے اور حکومت اپنی ذمہ داریاں اچھی طرح پوری کرے،انہوں نے کہا کہ سرمایہ داری کو اس انداز میں چلنا چاہیے کہ کارکنوں کو نقصان نہ پہنچے، ان کا استحصال نہ ہو اور غریب افراد سے ناجائز فائدہ نہ اٹھایا جائے،رامن کے بقول، بطور میئر ان کی توجہ انہی معاملات پر ہوگی
رامن کا مؤقف ایسے سیاسی ماحول میں سامنے آیا ہے جہاں امریکا کے بڑے شہروں میں جمہوری سوشلزم، سرمایہ داری، رہائش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، کارکنوں کے حقوق اور حکومت کے معاشی کردار پر بحث جاری ہے،ان کے بیان کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ سرمایہ داری کے معاشی نظام کو مکمل طور پر ختم کیے بغیر بھی حکومت اس کے منفی اثرات محدود کرنے اور کارکنوں و کم آمدنی والے افراد کے تحفظ کے لیے کردار ادا کر سکتی ہے
تاہم لاس اینجلس کاؤنٹی کی ری پبلکن پارٹی کی سربراہ روکسین ہوگ نے فاکس نیوز ڈیجیٹل سے گفتگو میں رامن کے بیان پر تنقید کی،انہوں نے سوال اٹھایا کہ رامن خود کو سرمایہ دار کیسے قرار دے سکتی ہیں جبکہ وہ ایسی تنظیم سے وابستہ ہیں جو سرمایہ داری کی جگہ ایک متبادل معاشی نظام کی حمایت کرتی ہے
فاکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، رامن کے نظریاتی مؤقف پر بحث کا تعلق صرف ان کے الفاظ سے نہیں بلکہ ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکا کے ساتھ ان کے تعلق اور تنظیم کی جانب سے ان کی انتخابی حمایت سے بھی ہے،اگر تنظیم اپنی توثیق واپس لینے کا فیصلہ کرتی ہے تو انتخاب سے پہلے یہ پیش رفت ان کی سیاسی مہم کے لیے ایک اہم معاملہ بن سکتی ہے
رامن موجودہ میئر کیرن باس کو چیلنج کر رہی ہیں،ان کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا وہ اپنی معاشی پالیسیوں کو سرمایہ داری کے اندر اصلاحات کے طور پر پیش کرتے ہوئے ترقی پسند ووٹروں کی حمایت برقرار رکھ سکتی ہیں، یا ان کا بیک وقت سرمایہ دار اور جمہوری سوشلسٹ ہونے کا دعویٰ سیاسی مخالفین کو مزید تنقید کا موقع فراہم کرے گا
اس تنازعہ میں دو مختلف تصورات آمنے سامنے ہیں،ایک طرف سرمایہ داری ایسا معاشی نظام ہے جس میں نجی ملکیت اور منڈی کا بنیادی کردار ہوتا ہے، جبکہ دوسری طرف جمہوری سوشلزم کے حامی معاشی عدم مساوات کم کرنے اور معیشت میں عوامی یا اجتماعی کردار بڑھانے کی حمایت کرتے ہیں،بعض جمہوری سوشلسٹ سرمایہ داری سے آگے بڑھ کر متبادل نظام چاہتے ہیں، جبکہ بعض سیاسی مباحث میں اس اصطلاح کو فلاحی ریاست، مضبوط عوامی خدمات اور کارکنوں کے تحفظ کے مطالبات کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے
رامن کے بیان نے اسی فرق کو انتخابی بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے،ان کی انتخابی مہم کے لیے چیلنج یہ ہوگا کہ وہ واضح کریں کہ سرمایہ داری اور جمہوری سوشلزم کو ایک ساتھ اپنانے سے ان کی مراد کون سی عملی معاشی پالیسیاں ہیں اور لاس اینجلس کے شہریوں کو ان سے کیا فائدہ پہنچے گا

قومی خبریں سے مزید