Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اسرائیل کے تاریخی انتخابات: نیتن یاہو کا سیاسی مستقبل، غزہ کی جنگ اور فلسطینیوں کا معاملہ ووٹروں کے فیصلے کے مرکز میں, ٹائم میگزین کا تجزیہ

اسرائیل کے تاریخی انتخابات: نیتن یاہو کا سیاسی مستقبل، غزہ کی جنگ اور فلسطینیوں کا معاملہ ووٹروں کے فیصلے کے مرکز میں, ٹائم میگزین کا تجزیہ
نیویارک:اسرائیل میں 27 اکتوبر کے انتخابات کے موقع پر جب ملک میں ووٹنگ شروع ہو رہی ہے، مغربی ذرائع ابلاغ نے بھی غیر معمولی پیمانے پر ان انتخابات کی کوریج کی ہے،امریکی جریدے ٹائم سے لے کر برطانوی اخبار گارڈین تک، بڑے بین الاقوامی میڈیا ادارے ان انتخابات کو اسرائیل کی سیاسی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ قرار دے رہے ہیں،ان کی توجہ صرف اس بات پر نہیں کہ وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو اقتدار برقرار رکھ پاتے ہیں یا نہیں، بلکہ اس سوال پر بھی ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کے حملوں، غزہ کی جنگ، ایران کے ساتھ فوجی محاذ آرائی اور اسرائیل کے جمہوری اداروں کے مستقبل کے بارے میں اسرائیلی معاشرہ کیا فیصلہ کرتا ہے،مغربی میڈیا کی یہ وسیع کوریج اسرائیلی انتخابات کی عالمی اہمیت کو نمایاں کرتی ہے، تاہم مختلف اداروں کی رپورٹنگ میں حکومتی پالیسیوں کی حمایت، مخالفت اور ان کے انسانی و سیاسی نتائج پر تنقید کے الگ الگ زاویے بھی سامنے آ رہے ہیں
امریکی جریدے ٹائم نے اپنے خصوصی مضمون ’’اسرائیل کا انتخاب‘‘ میں مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم یہودی بستی نیوے ڈینیئل سے اپنی رپورٹ کا آغاز کیا ہے،یہ بستی یروشلم کے جنوب میں واقع ہے اور مغربی کنارے کی بلند ترین پہاڑی چوٹیوں میں سے ایک پر سطح سمندر سے تقریباً 1,000 میٹر بلندی پر آباد ہے،یہاں سے مشرق کی جانب اردن کے پہاڑ دکھائی دیتے ہیں، جبکہ مغرب میں بحیرہ روم کے ساحلی میدان پھیلے ہوئے ہیں، جہاں اسرائیل کی بیشتر آبادی رہتی ہے،بظاہر پُرسکون دکھائی دینے والے اس علاقے میں بھی 27 اکتوبر کے انتخابات کے حوالے سے شدید سیاسی جذبات پائے جاتے ہیں،ٹائم کے مطابق، یہ انتخاب 78 سالہ تاریخ میں اسرائیل کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے
جریدے کے نامہ نگار ایرک کورٹیلِسا نے نیوے ڈینیئل کے تین رہائشیوں سے گفتگو کی تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ ان کے ووٹ کا فیصلہ کن محرک کیا ہوگا،ان میں سے ایک رہائشی باراک مور نے انتہائی سخت لہجے میں غزہ کے لیے امدادی سامان کی فراہمی پر اعتراض کیا،وہ گزشتہ 14 برس سے اس بستی میں رہ رہے ہیں،انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے اسی روز حماس کو 700 ٹرک فراہم کیے ہیں،ان کی مراد غزہ میں داخل ہونے والی تجارتی اشیا اور بین الاقوامی امداد سے تھی،مور نے کہا، ’’ہم ایک ایسی دہشت گرد تنظیم کو ادائیگی کر رہے ہیں جس نے یہودی عوام کے خلاف آشوٹز کے بعد سب سے بڑا ظلم کیا،”یہ بیان ان اسرائیلی ووٹروں کے نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے جو غزہ میں امدادی سامان کی آمد کو انسانی ضرورت کے بجائے حماس کے لیے رعایت کے طور پر دیکھتے ہیں
ٹائم کے مضمون کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 کے بعد دنیا کے بیشتر حصوں میں اسرائیل کی شناخت غزہ میں اس کی فوجی کارروائیوں کے حوالے سے کی جانے لگی ہے، لیکن اسرائیلی معاشرے کے اندر اس دن کے حملوں کے اثرات اور ان سے پیدا ہونے والے خوف اور صدمے نے سیاسی سوچ کو گہرائی سے متاثر کیا ہے،بہت سے اسرائیلی ووٹرز کے لیے قومی سلامتی، حماس کا مستقبل اور دوبارہ ایسے حملوں کو روکنا بنیادی انتخابی موضوعات ہیں،دوسری جانب غزہ میں فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں، تباہی اور انسانی بحران نے اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں کو بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے
ٹائم کی رپورٹ میں اس تضاد کو بھی نمایاں کیا گیا ہے کہ اسرائیل کے اندر انتخابی بحث کا مرکز اکثر اسرائیلیوں کی سلامتی، 7 اکتوبر کے حملوں اور حماس کے خطرے پر رہتا ہے، جبکہ غزہ میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں اور تباہی کو مختلف حلقے مختلف اہمیت دیتے ہیں،مضمون میں تقریباً 75,000 فلسطینیوں کی ہلاکتوں کا حوالہ دیا گیا ہے، تاہم اس عدد کو رپورٹ کے بیان کردہ پس منظر کے طور پر سمجھنا چاہیے۔ غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد اور اس کی تفصیلات کے حوالے سے مختلف اوقات میں مختلف اعداد و شمار سامنے آتے رہے ہیں
اسرائیلی انتخابات کی اہمیت کا ایک اور پہلو وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کا سیاسی مستقبل ہے،وہ گزشتہ 30 برسوں میں مجموعی طور پر 19 سال اسرائیل کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں اور اس بار دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں پر مشتمل اتحاد کی قیادت کرتے ہوئے دوبارہ عوامی مینڈیٹ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،ان کی انتخابی مہم میں قومی سلامتی اور حماس کے خلاف سخت مؤقف اہم حیثیت رکھتے ہیں، جبکہ ان کے مخالفین حکومت کی سکیورٹی پالیسیوں، 7 اکتوبر کے حملوں سے پہلے کی ناکامیوں، بدعنوانی کے مقدمات اور عدلیہ کے ساتھ کشیدگی پر سوال اٹھاتے ہیں
برطانوی اخبار گارڈین نے بھی ان انتخابات کو اسرائیل کی تاریخ کے اہم ترین انتخابات میں شمار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کے نتائج ملک کے جمہوری اداروں، عدلیہ کی آزادی اور فلسطینی علاقوں کے مستقبل پر اثر انداز ہو سکتے ہیں،اخبار کے مطابق، نیتن یاہو کی حکومت نے عدلیہ سمیت جمہوری اداروں کے ساتھ محاذ آرائی کی ہے، جبکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی پالیسیوں اور فلسطینیوں کی صورت حال نے بھی انتخابی بحث کو متاثر کیا ہے
ان انتخابات کا دائرہ اسرائیل کی داخلی سیاست تک محدود نہیں،غزہ کی جنگ، ایران کے ساتھ کشیدگی، امریکا کے ساتھ تعلقات اور مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے کردار کے بارے میں آنے والی حکومت کے فیصلے خطے کی سیاست پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں،صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نیتن یاہو کے لیے حمایت نے بھی انتخابی مہم کو بین الاقوامی تناظر دیا ہے،تاہم انتخابات کے نتائج سے قبل یہ کہنا ممکن نہیں کہ نئی حکومت بننے کی صورت میں غزہ، ایران یا فلسطینی علاقوں کے بارے میں پالیسیوں میں کتنی تبدیلی آئے گی
مغربی ذرائع ابلاغ کی وسیع کوریج اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اسرائیل کے انتخابات کو محض ایک معمول کی انتخابی سرگرمی نہیں سمجھا جا رہا،ٹائم نے یہودی بستی کے رہائشیوں کے خیالات کے ذریعے اسرائیلی معاشرے میں موجود خوف، غصے اور سلامتی کے تصورات کو نمایاں کیا ہے، جبکہ گارڈین نے جنگ، جمہوریت اور فلسطینیوں کے مستقبل سے متعلق وسیع تر سوالات کو اپنی رپورٹنگ میں جگہ دی ہے،ان دونوں زاویوں کو ملا کر دیکھا جائے تو بنیادی سوال یہ بنتا ہے کہ اسرائیلی ووٹرز اپنے ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہوئے 7 اکتوبر کے صدمے اور قومی سلامتی کو ترجیح دیتے ہیں یا حکومت کی پالیسیوں، جمہوری اداروں اور فلسطینیوں کے ساتھ جاری تنازعہ کے نتائج کو بھی اتنی ہی اہمیت دیتے ہیں،یہی وہ سوال ہے جس کے جواب پر نہ صرف نیتن یاہو کا سیاسی مستقبل بلکہ اسرائیل کی آئندہ سمت اور مشرق وسطیٰ کی سیاست کے کئی پہلو منحصر ہو سکتے ہیں

قومی خبریں سے مزید