Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اسرائیل میں تاریخی انتخابات، نیتن یاہو نئی سیاسی مدت کے لیے میدان میں، غزہ کی جنگ اور عدلیہ سے محاذ آرائی اہم سوالات

اسرائیل میں تاریخی انتخابات، نیتن یاہو نئی سیاسی مدت کے لیے میدان میں، غزہ کی جنگ اور عدلیہ سے محاذ آرائی اہم سوالات

اسرائیل میں اب جبکہ منگل کی صبح کے آغاز کے ساتھ ہی ملک کے تاریخی انتخابات کے لیے ووٹنگ شروع ہوئے کئی گھنٹے ہوچلے 27 اکتوبر 2026 کو ووٹنگ کا آغاز انتہای پرامن انداز میں ہوا ، اسرائیل جہاں 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں کے بعد یہ پہلے عام انتخابات ہیں،وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو ایک بار پھر عوام سے اپنی حکومت کے لیے نیا مینڈیٹ حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں،ان انتخابات کو اسرائیل کی حالیہ تاریخ کے اہم ترین انتخابات میں شمار کیا جا رہا ہے، کیونکہ ان کے نتائج نہ صرف نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل بلکہ غزہ کی جنگ، ایران کے ساتھ محاذ آرائی، مقبوضہ مغربی کنارے کی صورت حال اور اسرائیل کے جمہوری اداروں کے مستقبل پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں
7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی،اس کے بعد اسرائیل نے غزہ میں طویل اور تباہ کن فوجی کارروائیاں کیں، ایران کے ساتھ دو جنگی محاذ آرائیوں کا سامنا کیا اور مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف اپنی پالیسیوں اور کارروائیوں میں شدت پیدا کی، جنکے دوران اسی ہزار کے قریب فلسطینی مارے گئے اور کتنے بے گھر ہوئے وہ ایک الگ المناک تاریخ ہے ،ان حالات نے اسرائیل کی داخلی سیاست اور خطے میں اس کے تعلقات کو گہرے طور پر متاثر کیا ہے
نیتن یاہو گزشتہ 30 برسوں میں مجموعی طور پر 19 سال اسرائیل کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں،اس بار وہ دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں پر مشتمل اتحاد کی قیادت کر رہے ہیں اور انہیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت بھی حاصل ہے،تاہم ان کی حکومت کو 7 اکتوبر کے حملوں سے پہلے اور بعد میں اختیار کی گئی سکیورٹی پالیسیوں، جنگوں کے اخراجات، بدعنوانی کے مقدمات اور عدلیہ سمیت جمہوری اداروں کے ساتھ کشیدگی پر تنقید کا سامنا ہے
نیتن یاہو کے اہم حریف سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ ہیں، جن کی جماعت یاشار نے شفافیت، احتساب اور سیاسی تبدیلی کو اپنی مہم کا مرکزی نکتہ بنایا ہے،حزب اختلاف کی جماعتیں 7 اکتوبر کے حملوں اور سکیورٹی کی ناکامیوں کی تحقیقات کے لیے آزاد ریاستی کمیشن قائم کرنے اور انتہائی مذہبی یہودی مردوں کو فوجی خدمات سے حاصل استثنا ختم کرنے جیسے مطالبات بھی اٹھا رہی ہیں
انتخابات میں 120 رکنی پارلیمان، کنیسٹ، کی تمام نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے،اسرائیل کے انتخابی نظام میں کسی ایک جماعت کے لیے واضح اکثریت حاصل کرنا ضروری نہیں، لیکن حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے،اسی لیے انتخابی نتائج کے بعد مختلف جماعتوں کے درمیان اتحاد بنانے کے مذاکرات فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں
تازہ انتخابی جائزوں کے مطابق نیتن یاہو کے حامی اتحاد اور حزب اختلاف میں سے کسی کے لیے بھی واضح اکثریت حاصل کرنا یقینی نہیں،عرب جماعتوں کی حمایت اور چھوٹی جماعتوں کا انتخابی حد عبور کرنا بھی حکومت سازی کے امکانات پر اثر انداز ہو سکتا ہے،اس لیے ووٹوں کی گنتی کے بعد بھی نئی حکومت کی تشکیل میں وقت لگنے کا امکان ہے
ان انتخابات کا ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ اسرائیلی ووٹر جنگ اور قومی سلامتی کے بارے میں نیتن یاہو کے مؤقف کو کس حد تک قبول کرتے ہیں اور کیا وہ ایسے سیاسی متبادل کو ترجیح دیں گے جو 7 اکتوبر کی ناکامیوں کا احتساب اور داخلی اداروں میں اصلاحات کا وعدہ کر رہا ہے،غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کا مستقبل بھی اس سیاسی تبدیلی سے متاثر ہو سکتا ہے، اگرچہ حکومت کی تبدیلی بذات خود اسرائیل کی فلسطینی پالیسی میں بنیادی تبدیلی کی ضمانت نہیں ہوگی

قومی خبریں سے مزید