بھارتی فضائیہ کے سربراہ کی پاکستانی طرز کے ڈیفنس کمانڈر کی ضرورت پر وضاحت، ملکی سلامتی کی ضروریات کو ترجیح دینے پر زور
نئی دہلی: بھارتی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ نے کہا ہے کہ بھارت میں تینوں مسلح افواج کی مشترکہ کمانیں تشکیل دینے کا منصوبہ ملک کی مخصوص دفاعی اور سلامتی کی ضروریات کے مطابق ہوناچاہیے، نہ کہ کسی دوسرے ملک کے فوجی نظام کی نقل کرتے ہوئے،انہوں نے واضح کیا کہ اس منصوبے کو لڑاکا طیاروں اور دیگر فضائی وسائل کو مستقل طور پر مختلف جغرافیائی علاقوں میں تقسیم کرنے کی مشق کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے
ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ نے اتوار، 25 اکتوبر کو مشترکہ فوجی کمانوں کے قیام سے متعلق منصوبے پر تفصیلی مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل کی جنگیں اپنی نوعیت کے اعتبار سے کئی محاذوں اور شعبوں پر بیک وقت لڑی جائیں گی،ان کے مطابق بری فوج، بحریہ اور فضائیہ کو پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ قریبی رابطے اور باہمی تعاون کے ساتھ منصوبہ بندی اور کارروائیاں کرنا ہوں گی
بھارت میں زیر غور منصوبے کو فوجی اصطلاح میں تھیٹرائزیشن کہا جاتا ہے، جس کے تحت تینوں افواج کے وسائل اور آپریشنل کمان کو مربوط کیا جاتا ہے تاکہ کسی مخصوص محاذ یا خطے میں مشترکہ کارروائیاں زیادہ مؤثر انداز میں کی جا سکیں،اس نظام کا مقصد الگ الگ فوجی شاخوں کے درمیان رابطے کو بہتر بنانا اور جنگ کے دوران کمان، وسائل اور کارروائیوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہے
فضائیہ کے سربراہ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی فضائیہ اس منصوبے میں لڑاکا طیاروں اور فضائی طاقت کے استعمال کے حوالے سے لچک برقرار رکھنے کی خواہش رکھتی ہے،فضائی وسائل کو مستقل طور پر مخصوص جغرافیائی کمانوں کے ماتحت کرنے کے بجائے ایسا انتظام ضروری سمجھا جا رہا ہے جس میں ملک کی مجموعی دفاعی ضروریات اور بدلتے ہوئے جنگی حالات کے مطابق انہیں استعمال کیا جا سکے
بھارتی فوج میں مشترکہ کمانوں کے قیام پر بحث اس لیے بھی اہم ہے کہ مستقبل کے تنازعات میں فضائی، زمینی، بحری، سائبر اور خلائی شعبوں کا کردار ایک دوسرے سے زیادہ مربوط ہوتا جا رہا ہے،اے پی سنگھ کے مطابق نئے فوجی ڈھانچے کی تشکیل میں بھارت کی اپنی سلامتی کی صورت حال کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے





