بھارت :کیرالہ میں قائداعظم کی تصویر اور بیف کے دعوے پر یوٹیوبر کے خلاف مقدمہ درج
بھارت کی ریاست کیرالہ میں پولیس نے شمالی بھارت سے تعلق رکھنے والے یوٹیوبر امرت سنگھ ڈیرن کے خلاف فورٹ کوچی کے ایک کیفے کے بارے میں مبینہ فرقہ وارانہ بیانات دینے پر مقدمہ درج کر لیا ہے،پولیس کے مطابق ڈیرن نے انسٹاگرام پر جاری ویڈیو میں دعویٰ کیا تھا کہ کاشی آرٹ کیفے میں مہاتما گاندھی کی تصویر کے ساتھ محمد علی جناح کا چاندی کا مجسمہ بھی رکھا گیا ہے اور وہاں گائے کا گوشت فروخت کیا جاتا ہے
پولیس کے مطابق ویڈیو میں کیفے کے حوالے سے کیے گئے دعووں کے علاوہ ڈیرن نے فورٹ کوچی میں مسلمانوں کی آبادی اور کاروباری سرگرمیوں سے متعلق بھی باتیں کیں،انہوں نے دعویٰ کیا کہ علاقے کے 95 فیصد کاروباری افراد، ٹیکسی اور رکشہ ڈرائیور، چھوٹے تاجر اور خوانچہ فروش مسلمان ہیں اور دائیں بازو کے نظریات رکھنے والے مقامی افراد خوف کے باعث کھل کر بات نہیں کرتے،ان دعووں پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا
فورٹ کوچی پولیس نے بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعات 353(2) اور 192 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے،ان دفعات کا تعلق ایسے بیانات یا اطلاعات سے ہے جو مذہبی گروہوں کے درمیان دشمنی پیدا کرنے اور فساد پر اکسانے کا سبب بن سکتے ہوں،پولیس کے مطابق شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ویڈیو سے فرقہ وارانہ کشیدگی اور امن و امان کی خرابی کا خدشہ تھا،مقدمے کا اندراج الزامات کے درست ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہے
کیرالہ کے وزیر اعلیٰ وی ڈی ستھیسن نے ویڈیو کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں فرقہ وارانہ نفرت کی کوئی گنجائش نہیں اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی کوششیں قابل قبول نہیں،سابق وزیر اعلیٰ اور اپوزیشن رہنما پنارائی وجین نے بھی مبینہ فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا
کاشی آرٹ کیفے میں گاندھی اور جناح کی تصاویر پر مشتمل تنصیب دراصل معروف فنکار ریاض کومو کا کئی سال پرانا فن پارہ ہے، جس میں دونوں رہنماؤں کی زندگی، برطانوی اقتدار کے خلاف جدوجہد اور تقسیم ہند سے جڑے تاریخی پہلوؤں کو موضوع بنایا گیا ہے





