اقوام متحدہ میں ویٹو کا اختیار عالمی تنازعات ختم کرنے کی راہ میں رکاوٹ بن گیا، سلامتی کونسل میں اصلاحات کا مطالبہ
اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ سلامتی کونسل کے 5 مستقل ارکان کو حاصل ویٹو کا اختیار دنیا میں بڑھتے ہوئے تنازعات کو روکنے اور جنگیں ختم کرنے کی کوششوں میں بڑی رکاوٹ بن رہا ہے بڑی طاقتوں کے درمیان سیاسی، فوجی اور معاشی اثر و رسوخ کی کشمکش نے عالمی تعاون کو کمزور کردیا ہے، جس کے باعث کئی اہم بین الاقوامی مسائل پر مشترکہ فیصلے کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے رپورٹ میں سلامتی کونسل کے ڈھانچے میں اصلاحات اور اس کی رکنیت بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے تاکہ افریقہ، لاطینی امریکہ، کیریبین اور ایشیا پیسیفک کے ممالک کو عالمی فیصلوں میں زیادہ مؤثر نمائندگی مل سکے
اقوام متحدہ کے شعبہ اقتصادی و سماجی امور کی تیار کردہ عالمی سماجی رپورٹ 2026 کے مطابق، دنیا میں طاقت کی تقسیم تیزی سے تبدیل ہورہی ہے مختلف ممالک عالمی سیاست، تجارت اور فوجی معاملات میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں، لیکن اس مقابلے نے بین الاقوامی اداروں کے لیے تنازعات حل کرنا مزید مشکل بنادیا ہے رپورٹ کے مطابق 1970 کی دہائی میں صرف 6 ممالک دوسرے ممالک پر نمایاں اثر و رسوخ رکھتے تھے، جبکہ اب ایسے ممالک کی تعداد بڑھ کر 34 ہوگئی ہے
رپورٹ میں پڑوسی ممالک کے تعلقات میں بگاڑ کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ 2024 اور 2025 کے دوران 59 ممالک کے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات خراب رہے، جبکہ صرف 19 ممالک کے تعلقات میں بہتری ریکارڈ کی گئی۔ یہ صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ علاقائی کشیدگی اور بڑی طاقتوں کی باہمی رقابت عالمی امن کے لیے مسلسل چیلنج بن رہی ہے
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس کو مستقل رکنیت حاصل ہے ان 5 ممالک کو ویٹو کا خصوصی اختیار دیا گیا ہے، جس کے تحت ان میں سے کوئی ایک ملک بھی کسی اہم قرارداد کو مسترد کرکے اس کی منظوری روک سکتا ہے، خواہ کونسل کے باقی ارکان اس قرارداد کی حمایت کررہے ہوں سلامتی کونسل میں ان 5 مستقل ارکان کے علاوہ 10 غیر مستقل ارکان بھی شامل ہوتے ہیں، جنہیں 2 سال کے لیے منتخب کیا جاتا ہے
یہ نظام دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم کیا گیا تھا، جب فاتح طاقتوں کو عالمی امن اور سلامتی کے معاملات میں خصوصی حیثیت دی گئی اس کا بنیادی مقصد بڑی طاقتوں کو اقوام متحدہ کے نظام میں شامل رکھنا اور عالمی تنازعات پر مشترکہ فیصلوں کی راہ ہموار کرنا تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہی اختیار کئی معاملات میں اختلافات اور تعطل کا سبب بن گیا ہے
غزہ کی جنگ اس مسئلے کی نمایاں مثالوں میں شامل ہے، جہاں امریکہ نے جنگ بندی سے متعلق متعدد قراردادوں کو ویٹو کیا۔ اسی طرح یوکرین کی جنگ کے معاملے پر روس کے ویٹو نے سلامتی کونسل کے لیے مؤثر اقدامات کرنا مشکل بنایا ان واقعات نے اس بحث کو تقویت دی ہے کہ آیا کسی ایک طاقت کو عالمی امن سے متعلق فیصلے روکنے کا اختیار ہونا چاہیے یا نہیں
ویٹو کے اختیار پر تنقید صرف ترقی پذیر ممالک تک محدود نہیں اقوام متحدہ کے متعدد رکن ممالک کا مؤقف ہے کہ موجودہ نظام آج کی دنیا کی آبادی، معاشی حیثیت اور علاقائی نمائندگی کی درست عکاسی نہیں کرتا۔ خاص طور پر افریقی ممالک کا کہنا ہے کہ براعظم کو عالمی تنازعات اور امن قائم کرنے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کرنا پڑتا ہے، لیکن سلامتی کونسل میں اسے مستقل رکنیت حاصل نہیں
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سلامتی کونسل کی اصلاحات کے ذریعے عالمی ادارے کو زیادہ نمائندہ، جامع اور جواب دہ بنایا جانا چاہیے تاہم ویٹو کا اختیار ختم کرنا آسان نہیں، کیونکہ اقوام متحدہ کے منشور میں ترمیم کے لیے دو تہائی رکن ممالک کی توثیق کے ساتھ سلامتی کونسل کے تمام 5 مستقل ارکان کی منظوری بھی ضروری ہے اس لیے جن ممالک کے پاس یہ اختیار موجود ہے، ان کی رضامندی کے بغیر اسے مکمل طور پر ختم کرنا انتہائی مشکل ہے
پاکستان بھی سلامتی کونسل میں اصلاحات اور ویٹو کے اختیار پر پابندیوں کا مطالبہ کرتا رہا ہے اپریل 2026 میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے عاصم افتخار احمد نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ویٹو کا اختیار ختم کیا جائے یا کم از کم اس کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں پاکستان نے مستقل ارکان کی تعداد بڑھانے کی بھی مخالفت کی اور کہا کہ مزید ممالک کو یہی خصوصی اختیار دینے سے فیصلہ سازی کا مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے پاکستان کی تجویز ہے کہ سلامتی کونسل کو زیادہ جمہوری، شفاف اور جواب دہ بنایا جائے اور غیر مستقل ارکان کے کردار کو مؤثر کیا جائے
رپورٹ میں عالمی تعاون کے لیے قرضوں کے بوجھ میں کمی، ترقی پذیر ممالک کو مالی وسائل کی فراہمی اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے اس کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں تیز رفتار ترقی اور عالمی سیاسی کشیدگی جیسے مسائل کسی ایک ملک کے بس میں نہیں، اس لیے ان سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی ضروری ہے
رپورٹ کے مطابق 2020 سے 2024 کے دوران نصف سے زیادہ ممالک نے اپنی مجموعی قومی پیداوار کے مقابلے میں دفاعی اخراجات کا تناسب بڑھایا، جبکہ جوہری ہتھیار رکھنے والے تمام 9 ممالک نے 2022 کے بعد اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخائر میں توسیع کی ہے بڑھتے ہوئے فوجی اخراجات اور عالمی کشیدگی کے باعث تعلیم، صحت، غربت کے خاتمے اور معاشی ترقی جیسے شعبوں کے لیے وسائل کی دستیابی بھی متاثر ہوسکتی ہے
عالمی ادارے کے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ نظام بڑی طاقتوں کے اختلافات کے باوجود جنگیں روکنے اور امن قائم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ ویٹو کے حامی اسے بڑی طاقتوں کو اقوام متحدہ کے ساتھ منسلک رکھنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں، جبکہ ناقدین کے نزدیک یہی اختیار بعض اوقات اکثریتی رائے اور عالمی امن کی کوششوں کو غیر مؤثر کردیتا ہے سلامتی کونسل میں اصلاحات کی بحث اسی اختلاف کے گرد گھومتی ہے، لیکن کسی بڑی تبدیلی کے لیے مستقل ارکان کا اتفاق حاصل کرنا سب سے بڑا چیلنج ہے





