پیوٹن اور ٹرمپ کے معاہدے کے بعد روسی ڈیزل کی پہلی کھیپ امریکہ روانہ، 7 نومبر کو نیویارک پہنچنے کی توقع
روس سے 40 ہزار میٹرک ٹن انتہائی کم سلفر والا ڈیزل لے جانے والا ایک آئل ٹینکر امریکہ کی جانب رواں دواں ہے، جہازوں کی نقل و حرکت کے اعداد و شمار کے مطابق یہ روسی ڈیزل کی وہ پہلی کھیپ ہے جو 2022 میں روسی پیٹرولیم مصنوعات پر امریکی پابندی کے بعد امریکہ درآمد کی جا رہی ہے
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مالٹا کے پرچم تلے سفر کرنے والے درمیانے حجم کے ٹینکر آگیوئی فانینڈیس پر روس کی بحیرہ بالٹک کی بندرگاہ پری مورسک سے 22 اکتوبر کو ڈیزل لادا گیا۔ جہاز کی امریکہ آمد 7 نومبر متوقع ہے
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ماہ روس کے ساتھ اس معاہدے کا اعلان کیا تھا،اس کا مقصد 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکہ میں ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کم کرنے میں مدد دینا ہے،ٹرمپ کے مطابق روس ابتدائی مرحلے میں 3 لاکھ ٹن ڈیزل امریکہ بھیجے گا، جسے امریکی منڈی اور عالمی منڈیوں میں رسد بڑھانے کے لیے استعمال کیا جائے گا،اس اقدام کے ساتھ ٹرمپ نے روس کے خلاف نئے امریکی پابندیوں کے قانون کے بعض حصوں سے استثنا بھی دیا،انہوں نے یورپی ممالک کو دھمکی دی کہ اگر انہوں نے قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے لیے اپنے ہنگامی ذخائر سے مزید تیل جاری نہ کیا تو امریکہ یورپ کو ڈیزل کی برآمدات روکنے پر غور کر سکتا ہے۔
ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ روسی ڈیزل خریدنے والا ادارہ کون ہے اور اسے فروخت کس نے کیا ہے





