Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

امریکی وسط مدتی انتخابات میں اشتہارات پر ریکارڈ اخراجات، ارب پتیوں کی دولت انتخابی مہمات کا رخ بدلنے لگی

امریکی وسط مدتی انتخابات میں اشتہارات پر ریکارڈ اخراجات، ارب پتیوں کی دولت انتخابی مہمات کا رخ بدلنے لگی

امریکہ میں 3 نومبر 2026 کے وسط مدتی انتخابات سے قبل سیاسی اشتہارات پر اخراجات ریکارڈ سطح تک پہنچ گئے ہیں،ارب پتی کاروباری شخصیات، بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں، کرپٹو کرنسی کے شعبے اور آن لائن بیٹنگ سے وابستہ مفادات انتخابی مہمات میں بھاری رقوم لگا رہے ہیں،اس مالی طاقت کے ذریعے کانگریس کی نشستوں کے مقابلوں، اہم پالیسی مباحث اور سیاسی اشتہارات پر اثرانداز ہونے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں
اشتہارات کے اخراجات کا جائزہ لینے والے ادارے ایڈ امپیکٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، 2026 کے انتخابی دور میں سیاسی اور عوامی مسائل سے متعلق اشتہارات پر مجموعی اخراجات تقریباً 11.6 ارب ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ ہے، جبکہ دو ہزار بائیس کے مڈ ٹرم انتخابات میں اشتہارات کی مد میں 8.9 بلین ڈالر خرچ کیے گئے تھے ، اسطرح امسال امریکی وسط مدتی انتخابات کے لیے نیا ریکارڈ ہوگا،اس رقم میں سیاسی جماعتوں کے علاوہ بیرونی سیاسی کمیٹیوں، کمپنیوں، مزدور تنظیموں اور دیگر مفاداتی گروپوں کے اخراجات بھی شامل ہیں
ارب پتی ایلون مسک اس انتخابی دور کے سب سے بڑے انفرادی سیاسی عطیہ دہندہ بن چکے ہیں،واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، 16 اکتوبر تک ان کی جانب سے وسط مدتی انتخابات پر خرچ کی گئی ذاتی رقم 369 ملین ڈالر تک پہنچ چکی تھی،ان کی بڑی رقوم ریپبلکن امیدواروں کی حمایت کرنے والی سیاسی کمیٹیوں کو دی گئی ہیں،مسک سے وابستہ سیاسی کمیٹیوں نے 20 اکتوبر تک کانگریس کے مختلف انتخابی مقابلوں میں اشتہارات پر مجموعی طور پر 431 ملین ڈالر خرچ کیے تھے
واشنگٹن پوسٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، انتخابی دور کے 50 بڑے عطیہ دہندگان مجموعی طور پر 2.3 ارب ڈالر سے زیادہ فراہم کر چکے ہیں،ان میں ریپبلکن امیدواروں اور ان کے حامی گروپوں کو تقریباً 1.54 ارب ڈالر، ڈیموکریٹک حلقوں کو 590 ملین ڈالر، جبکہ دونوں جماعتوں یا مخصوص مفادات سے وابستہ گروپوں کو 259 ملین ڈالر ملے،ان رقوم کا بڑا حصہ سپر سیاسی ایکشن کمیٹیوں کو دیا گیا ہے، جو قانون کے تحت بڑی رقوم وصول کرکے انتخابی سرگرمیوں پر خرچ کر سکتی ہیں
صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وابستہ سیاسی کمیٹیاں بھی انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں بھاری اخراجات کر رہی ہیں،ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، ٹرمپ کی مرکزی سپر سیاسی ایکشن کمیٹی میگا انک نے ستمبر کے آغاز سے تقریباً 277 ملین ڈالر خرچ کیے، جن میں اشتہارات کے لیے دیگر متعلقہ گروپوں کو منتقل کی گئی رقوم بھی شامل ہیں،ان گروپوں نے ریپبلکن امیدواروں کی حمایت میں لاکھوں ڈالر کے اشتہارات چلائے، جبکہ ٹیکساس کی سینیٹ کی نشست کے مقابلے میں بھی بڑی رقم لگائی گئی
انتخابی اخراجات کا ایک اہم پہلو وہ رقم بھی ہے جس کے اصل عطیہ دہندگان عوام کے سامنے واضح نہیں ہوتے،نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، 2026 کے انتخابی دور میں کم از کم ایک ارب ڈالر ایسے سیاسی اخراجات سے وابستہ ہیں جن کے پیچھے موجود عطیہ دہندگان کی شناخت چھپی ہوئی ہے،ایسے اخراجات کو عموماً ’’ڈارک منی‘‘ کہا جاتا ہے،اس طریقۂ مالی معاونت کے ذریعے غیر منافع بخش اداروں اور دیگر گروپوں کے ذریعے سیاسی اشتہارات چلائے جا سکتے ہیں، جبکہ ان رقوم کے اصل ذرائع کا سراغ لگانا مشکل ہو جاتا ہے
بڑی مالی معاونت کے بڑھتے ہوئے کردار نے یہ سوال نمایاں کر دیا ہے کہ امریکی انتخابات میں امیدواروں کی پالیسیوں اور ووٹروں کی ترجیحات کے ساتھ دولت مند افراد، بڑی کمپنیوں اور مخصوص مفادات کے حامل گروپوں کی مالی طاقت کس حد تک اثرانداز ہو رہی ہے،ریکارڈ اشتہاری اخراجات کے اس دور میں انتخابی مہمات صرف امیدواروں کے پیغامات کا مقابلہ نہیں رہیں بلکہ سیاسی اثرورسوخ کے حصول کے لیے بڑی رقوم کی کشمکش بھی بن گئی ہیں

قومی خبریں سے مزید