امریکی سپریم کورٹ کے فیصلوں نے وسط مدتی انتخابات کا منظرنامہ بدل دیاامریکی سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں نے نومبر 2026 کے وسط مدتی انتخابات کی تیاریوں اور انتخابی مقابلے پر نمایاں اثر ڈالا ہے،ریپبلکنز کانگریس میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے میدان میں ہیںرائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، انتخابی حلقوں کی نئی حدبندی اور انتخابی مہم کے مالیاتی قواعد سے متعلق سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں سے مجموعی طور پر ریپبلکنز کو فائدہ پہنچا ہے،تاہم، ڈاک کے ذریعے ڈالے جانے والے ووٹوں سے متعلق بعض فیصلے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف کے خلاف گئے ہیںرپورٹ کے مطابق، ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے ہر ایوان میں کم از کم 4 نشستوں کا خالص اضافہ درکار ہے۔ اگر ریپبلکنز ان میں سے کسی ایک ایوان کا کنٹرول بھی کھو دیتے ہیں تو ٹرمپ کے قانون سازی کے ایجنڈے کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور ڈیموکریٹس کو صدر اور ان کی انتظامیہ کے خلاف کانگریسی تحقیقات شروع کرنے کا موقع مل سکتا ہےسپریم کورٹ کی جسٹس ایلینا کیگن نے انتخابی عمل پر عدالتی فیصلوں کے غیر معمولی اثرات کے حوالے سے تشویش ظاہر کی ہے،انتخابی حلقوں کی حدبندی، ووٹنگ کے قواعد اور انتخابی مہم کے اخراجات سے متعلق مزید مقدمات بھی سپریم کورٹ تک پہنچ سکتے ہیں، جس سے 3 نومبر کے انتخابات سے قبل قانونی کشمکش میں مزید شدت آنے کا امکان ہے





