Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

کینساس سینیٹ کے آخری مباحثے میں ایران جنگ اور امیگریشن پر سخت جملوں کا تبادلہ، ریپبلکن اور ڈیموکریٹ امیدوار کانٹے کے مقابلے میں آمنے سامنے

کینساس سینیٹ کے آخری مباحثے میں ایران جنگ اور امیگریشن پر سخت جملوں کا تبادلہ، ریپبلکن اور ڈیموکریٹ امیدوار کانٹے کے مقابلے میں آمنے سامنے

امریکی ریاست کینساس میں سینیٹ کی نشست کے لیے ریپبلکن سینیٹر راجر مارشل اور ڈیموکریٹ امیدوار ایڈم ہیملٹن کے درمیان 21 اکتوبر کو آخری انتخابی مباحثہ ہوا، جس میں ایران جنگ، امیگریشن قوانین کے نفاذ، صحتِ عامہ اور محصولات کی پالیسی پر ایک دوسرے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا،این بی سی نیوز کے مطابق یہ مقابلہ اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ روایتی طور پر ریپبلکنز کی مضبوط ریاست کینساس میں دونوں امیدواروں کے درمیان مقابلہ انتہائی سخت ہے، جبکہ 3 نومبر کے انتخابات میں سینیٹ کا کنٹرول بھی داؤ پر لگا ہے
ایڈم ہیملٹن، جو ایک بڑے چرچ کے پادری ہیں اور پہلی مرتبہ انتخاب لڑ رہے ہیں، نے خود کو ایسا ڈیموکریٹ قرار دیا جو پارٹی کی روایتی حدود سے ہٹ کر کام کرنا چاہتا ہے،انہوں نے کہا کہ وہ سوشلسٹ پارٹی کے حامی نہیں بلکہ اعتدال پسند مؤقف رکھتے ہیں اور ریپبلکن، آزاد ووٹرز اور ڈیموکریٹس سمیت تمام شہریوں کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں
راجر مارشل نے ان کے اس مؤقف پر سوال اٹھاتے ہوئے بار بار ڈیموکریٹ سینیٹ رہنما چک شومر سے ان کے تعلق کو انتخابی بحث کا موضوع بنایا،مارشل نے ایک گھنٹے کے مباحثے میں شومر کا 17 مرتبہ ذکر کیا اور الزام لگایا کہ ہیملٹن سینیٹ کی قیادت ڈیموکریٹس کے حوالے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں
تازہ پولنگ کے اعداد و شمار بھی اس مقابلے کی سختی ظاہر کرتے ہیں،پولنگ ویب سائٹ ففٹی پلس ون کے 21 اکتوبر 2026 کے تخمینے کے مطابق ایڈم ہیملٹن کو 46.6 فیصد اور راجر مارشل کو 45.3 فیصد حمایت حاصل ہے،یعنی ہیملٹن کو 1.3 پوائنٹس کی برتری حاصل ہے، تاہم یہ فرق اتنا کم ہے کہ اسے کسی امیدوار کی یقینی کامیابی نہیں سمجھا جا سکتا

قومی خبریں سے مزید